دنیا کا سب سے سرد اور غیر آباد براعظم انٹارکٹکا بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ ماہرین کے مطابق موسم سرما میں جس مقدار میں سمندری برف بننی چاہیے تھی، وہ ریکارڈ کمی کے باعث تشکیل نہیں پا سکی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی سمندری برف کم ہو گئی ہے، جو رقبے کے لحاظ سے بھارت کی ریاست راجستھان کے حجم سے تقریباً دوگنا بنتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انٹارکٹکا میں سمندری برف کا بننا اور پگھلنا قدرتی عمل ہے، لیکن حالیہ برسوں میں برف کی مقدار میں غیر معمولی کمی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سمندری برف میں کمی صرف انٹارکٹکا تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی ماحول، سمندری حیات اور موسموں کے نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
برف کی تہہ سورج کی روشنی کو واپس خلا میں منعکس کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن جب برف کم ہوتی ہے تو سمندر زیادہ حرارت جذب کرتا ہے، جس سے درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں، خاص طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں دنیا کے دور دراز علاقوں کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔انٹارکٹکا میں برف کی یہ غیر معمولی کمی ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے، جس کے اثرات زمین کے ہر حصے تک پہنچ رہے ہیں۔