پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید کا نام پی این آئی ایل اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
پی ٹی آئی رہنماء فیصل جاوید کا نام پی این آئی ایل سے نکالنے کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست پر سماعت جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس اورنگزیب نے کی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثنا اللہ نے عدالت کو بتایا کہ فیصل جاوید کے خلاف 6 ایف آئی آرز ہیں تین کیسز میں فیصل جاوید کا نام پی این آئی ایل اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا ہے ان کیسز میں 7 اے ٹی اے بھی لگا ہے جن میں فیصل جاوید عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔
جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے استفسار کیا کہ کتنے مقدمات رہ گئے ہیں جن میں ان کا نام لسٹ میں نہیں ڈالا ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 6 ایسے ایف آئی آرز ہیں جن میں ان کا نام لسٹ میں نہیں ڈالا جس پر جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے کہا کہ آپ کے عمرہ کا ویزہ اب ہے یا ایکسپائر ہوگیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ویزے میں ابھی وقت ہے فیصل جاوید کے خلاف بنائے گئے نومبر 2024 کے کیسز پر اب 6 مارچ 2025 کو مقدمہ بنایا گیا ہے۔
جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے کہا کہ پی این آئی ایل اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ دونوں میں نام ڈالنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کو فیصل جاوید کا نام لسٹ میں ڈالنے کے لئے خط لکھا۔ فریقین کی جانب سے دلائل مکمل کرنے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے فیصل جاوید کا نام پی این آئی ایل اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔