حج آپریٹرز کیلئے نئی شرائط نافذ، حکومت کا بڑا فیصلہ

حج آپریٹرز کیلئے نئی شرائط نافذ، حکومت کا بڑا فیصلہ

وفاقی کابینہ نے پرائیویٹ حج پالیسی 2027-2030 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت حج آپریٹرز کے لیے نئی شرائط اور ضابطے متعارف کرائے گئے ہیں۔ نئی پالیسی کا مقصد پرائیویٹ حج نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور حجاج کرام کے لیے بہتر بنانا قرار دیا گیا ہے۔

وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پرائیویٹ حج آپریٹرز کے لیے روایتی کوٹہ سسٹم کے بجائے کارکردگی اور قواعد پر عمل درآمد کی بنیاد پر نظام نافذ کیا جائے گا۔ تمام موجودہ حج آپریٹرز کی دوبارہ جانچ بھی لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ صرف اہل اور بہتر خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں ہی حج آپریشن کا حصہ بن سکیں۔

پالیسی کے مطابق پرائیویٹ حج کوٹہ ’’پہلے آئیں، پہلے پائیں‘‘ کی بنیاد پر مختص کیا جائے گا، جبکہ ہر حج آپریٹر کے لیے کم از کم 2 ہزار حجاج کی بکنگ لازمی ہوگی۔ مقررہ تعداد میں بکنگ نہ کرنے والی کمپنی کو غیر فعال قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ ناکام کمپنیوں کی سکیورٹی کا کچھ حصہ ضبط کرنے اور حجاج کو دوسری کمپنیوں میں منتقل کرنے کا نظام بھی شامل کیا گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2025 کی منظوری دے دی

وزارت مذہبی امور کے مطابق تمام حج کمپنیوں کی آزاد ماہرین کے ذریعے جانچ اور درجہ بندی کی جائے گی، جبکہ حج آپریٹرز کو تین سال کی مدت کے لیے لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ نئی پالیسی میں حج کوٹے کی خرید و فروخت، کارٹل سازی اور اجارہ داری کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت پرائیویٹ حج آپریشنز کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے چلایا جائے گا۔ حج بکنگ صرف پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل کے ذریعے کی جا سکے گی، جبکہ یہ نظام نادرا اور اسٹیٹ بینک سے منسلک ہوگا۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ دستی بکنگ اور نقد رقم کے لین دین پر پابندی ہوگی، جبکہ حج کمپنیاں حجاج کے فنڈز اپنے پاس رکھنے کی مجاز نہیں ہوں گی۔ سعودی عرب میں حج سے متعلق ادائیگیاں براہ راست سروس فراہم کرنے والوں کو کی جائیں گی اور تمام ادائیگیوں کا عمل اسٹیٹ بینک کے سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :اس سال حج پیکج پر کتنا خرچ آئے گا؟ حج پالیسی نکات سامنے آگئے

وزارت مذہبی امور کے مطابق پاکستان کا نیا پرائیویٹ حج نظام سعودی عرب کے وژن 2030 سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے، تاکہ حجاج کو بہتر سہولیات، شفاف خدمات اور جدید طریقہ کار فراہم کیا جا سکے۔

editor

Related Articles