جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی پہلے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرے تب ہی معاملات آگے بڑھ سکیں گے ۔
کالعدم عومی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ثالثی کی پیش کش کی اپیل قبول کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ آزاد کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر اس وقت پوری پاکستانی قوم اور کشمیری عوام انتہائی تشویش اور فکر مندی کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مراسلے کے ذریعے مجھ سے اس بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ میں نے آزادکشمیر اور پاکستان کے وسیع تر اور بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مصالحتی کردار کو ادا کرنے کی ہامی بھر لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دھرنے پر بیٹھے مظاہرین اس وقت اگلے لائحہ عمل کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ایک موثر ثالثی کے لیے مجھے کچھ وقت درکار ہے تاکہ حکومت سے رابطہ کر کے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔
امیر جے یو آئی کا کہنا تھا کہ یہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ ہے جو تمام مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس، محترم اور حساس ہے۔ ایسے موقع پر میں ضروری سمجھتا ہوں کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے مرحلے میں اپنے دھرنے کو فوری طور پر ختم کرے اور اگلے کسی ایسے لائحہ عمل کی طرف نہ بڑھے جس سے حالات مزید خراب ہوں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں ایک اچھی امید کے ساتھ یہ پیغام دونوں فریقین تک پہنچا رہا ہوں تاکہ اگلے اقدامات کے لیے ماحول کو مکمل طور پر سازگار بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے حکومت بھی مذاکرات سے انکار کرچکی ہے اور دوٹوک موقف اپنایا گیا ہےکہ دھرنا ختم کئے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہونگے جبکہ ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا بے نقاب ہونے پر کور ممبرز بھی علیحدگی اختیار کررہے ہیں۔کچھ روز قبل ہی مولانا فضل الرحمان سے ثالثی کی اپیل کی گئی تھی۔