ہرمز میں بڑے ٹکراؤ کا خطرہ، ایرانی نیوی نے امریکی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخلےسے روک دیا

ہرمز میں بڑے ٹکراؤ کا خطرہ، ایرانی نیوی نے امریکی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخلےسے روک دیا

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جہاں ایرانی نیوی نے امریکی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی نیوی نے فوری اور سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے امریکی بحری جہازوں کا راستہ روکا۔ ایرانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی جہاز رانی ایرانی افواج کی اجازت سے مشروط ہوگی جبکہ امریکی بحریہ کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اس حساس سمندری حدود کے قریب نہ آئے۔

ایرانی افواج کی مشترکہ کمان خاتم النبین ہیڈ کوارٹر ن کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے اور تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو بھی بغیر اجازت نقل و حرکت سے گریز کرنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی حدود میں کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائی کورٹ کا بشریٰ بی بی کیس میں بڑا حکم، معاملہ جیل حکام کے سپرد

دوسری جانب ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران جنگ کے تناظر میں غیر جانبدار ممالک کی درخواست پر آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کیلئے پروجیکٹ فریڈم شروع کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام انسانی ہمدردی کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ خوراک اور ضروری سامان کی قلت کا شکار جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی بحریہ جہازوں کی رہنمائی کرے گی تاہم انہیں جنگی جہازوں کے حصار میں نہیں نکالا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس عمل میں کسی نے مداخلت کی تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق پروجیکٹ فریڈم میں 100 سے زائد طیارے جدید ڈرون سسٹمز جنگی جہاز اور تقریباً 15 ہزار اہلکار شامل ہوں گے۔ کمانڈر بریڈ کوپر نے اس مشن کو نہ صرف علاقائی سکیورٹی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

editor

Related Articles