پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صوبائی وزیر صادق عمرانی نے پاکستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی ایم ) کے سربراہ اختر خان مینگل پر دہشتگردوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختر مینگل ایک ’ناسور‘ ہیں اور بلوچ قوم کے دشمن ہیں، ہم نے پردہ اٹھایا تو وہ منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے۔
جمعرات کو صادق عمرانی نے دیگر صوبائی وزرا کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اختر مینگل یونین کونسل کے خود ساختہ لیڈر شیخ مجیب کی طرح کبھی 6 نکات اٹھاتے ہیں، کھبی بلوچستان کے مسائل کی بات کرتے ہیں تو کبھی دہشتگردوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جیالے اختر مینگل کو خبردار کرتے ہیں کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کے خلاف جو زبان استعمال کی اس کی شدید مذمت کرتے ہیں، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عزت و احترام کی زبان استعمال کی ہے۔ اختر مینگل حکومت بلوچستان کے ساتھ پس پردہ بات کرتے رہے ہیں، ہم آج بھی چاہتے ہیں کہ صوبے سے دہشتگردی کی لعنت کا خاتمہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں، ہم آج یہاں عوامی طاقت سے آئے ہیں، اختر مینگل کی پارٹی ایک یونین کونسل کی پارٹی ہے، آج وہ دہشتگردوں کی سرپرستی کرتے ہیں، اپنا چہرہ خواتین کی طرح چھپاتے ہیں،
صادق عمرانی نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی نے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا، بے نظیر بھٹو کو جبری جلا وطن کیا گیا، جب وہ پاکستان آئیں تو انہیں پتا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ وطن واپس آئیں، پیپلز پارٹی نے کبھی بزدالانہ سیاست نہیں کی، اختر مینگل ایک ناسور ہیں وہ بلوچ قوم کے دشمن ہیں۔ یہ بھی پڑھیں:بلوچستان کے وسائل صوبے میں استعمال نہیں ہو رہے : سربراہ بی این پی سردار اختر مینگل
صادقی عمرانی نے کہا کہ اختر مینگل کو احتجاج کے لیے باعزت راستہ دیا، جس اسٹیڈیم میں وہ جانا چاہتے تھے وہاں دہشتگردوں نے پہلے یہ بم نصب کر رکھا تھا، ہم امن کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، ایک وقت تھا کہ اختر مینگل نواز شریف کی گاڑی چلاتے تھے، پھر ایک وقت آیا کہ عمران خان کی حکومت سے بلوچستان کی ترقی کے نام سے 15 ارب روپے لے کر دبئی جا کر بیٹھ گئے، بلوچستان میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا۔
صادق عمرانی نے کہا کہ ہم دہشتگردوں سے ڈرتے ہیں نہ دہشتگردی کے خاتمے سے پیچھے ہٹیں گے، اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اختر مینگل اپنی زبان پر قابو رکھیں ورنہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔