پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایک اہم خط اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر اور اقوام متحدہ میں کولمبیا کی مستقل مندوب لیونور زالباتا ٹوریس کے حوالے کر دیا ہے۔
خط میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا فوری نوٹس لے۔
پاکستان نے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت کے اقدامات سندھ طاس معاہدے کی روح اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے منافی ہیں، اس لیے سلامتی کونسل بھارت کو ان کھلی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔
خط میں خاص طور پر دریائے چناب کے نظام سے متعلق بھارت کے دو آبی ڈھانچہ جاتی منصوبوں کی جانب سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے معاہدے کے تقاضوں سے متصادم ہیں اور ان کے خطے کے آبی توازن پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کی جانب سے متنازع آبی منصوبوں کا مقصد دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ پر اثرانداز ہونا اور پانی کا رخ موڑنا ہے، جس سے پاکستان کے پانی کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ترجمان کے مطابق بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جو نہ صرف سندھ طاس معاہدے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری توجہ دے اور جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔