قومی ٹیم میں اب میچ ونرز کم ہیں، شاہد آفریدی نے مفید مشورہ دے دیا

سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ ہمارے دور میں قومی ٹیم میں میچ ونر کھلاڑیوں کی تعداد زیادہ تھی، مگر اب میچ ونرز کم ہیں۔

گلگت میں کشمیر سپر لیگ کے ٹرائلز کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط ٹیم کی تشکیل کے لیے گراس روٹ لیول پر توجہ دینا ضروری ہے۔

خاص طور پر 16 تا 19 سال کے ٹیلنٹڈ کھلاڑیوں کی صحیح تربیت ضروری ہے، مگر بدقسمتی سے آج کل کھلاڑی قومی ٹیم میں شامل ہونے کے بعد سیکھنا شروع کرتے ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی مسلسل تیسری فتح، ملتان سلطانز کو 47 رنز سے شکست دیدی

شاہد آفریدی نے کہا  کہ ہمیں نچلے لیول پر ایسے تگڑے اور باصلاحیت افراد کی ضرورت ہے جو کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ تربیت کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام کسی بیوروکریٹ کے سپرد کیا گیا تو اسے نہ خود سمجھ آئے گی اور نہ ہی وہ اسے درست طریقے سے چلا سکے گا۔

ایک سوال کے جواب میں سابق آل رائونڈر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین ہمیشہ سیاسی بنیادوں پر تعینات ہوتا ہے اور صرف چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کا اثر و رسوخ ہوتا تو وہ آج پی سی بی کے چیئرمین ہوتے تاہم اگر وہ پی سی بی میں آئے تو صرف پاکستان کی خدمت کیلئے آئیں گے، انہیں کسی کنٹریکٹ یا ذاتی مفاد کی ضرورت نہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *