خیبر پختونخوا میں کرپشن الزامات کا سلسلہ تیز، مشیر سیاحت اور ڈی جی آمنے سامنے

خیبر پختونخوا میں کرپشن الزامات کا سلسلہ تیز ہو گیا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے ثقافت، سیاحت، آثار قدیمہ اور عجائب گھر نے خیبر پختونخوا ٹورازم اتھارٹی کے ڈائریکٹرجنرل کے خلاف سنگین الزامات لگا دئیے۔

اس سلسلے میں سیکرٹری سیاحت خیبرپختونخوا نے چیف سیکرٹری کے نام ایک نوٹ بھی لکھا ہے اور سیکرٹری سیاحت نے چیف سیکرٹری کے نام لکھے گئے اپنے نوٹ کے ساتھ ڈائریکٹرجنرل خیبرپختونخوا ٹورازم اتھارٹی پر لگائے گئے الزامات بھی تحریری طورپر ارسال کئے ہیں۔

نوٹ میں کہا ہے کہ وزیراعلی کے مشیر برائے سیاحت نے ایک خط کے ذریعے بتایا کہ موجود ڈی جی ٹورازم اتھارٹی کے خلاف بمعہ ثبوت کچھ الزامات سامنے آئے ہیں، سیکرٹری سیاحت نے اپنے نوٹ میں کہا ہے کہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اسٹبلمشنٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایات جاری کرے کہ وہ اس حوالے سے مزید مناسب کارروائی کرے۔

سیکرٹری محکمہ سیاحت نے ڈائریکٹر جنرل ٹورازم اتھارٹی پر لگائے گئے الزامات بھی اپنے نوٹ کے ساتھ چیف سیکرٹری کو ارسال کئے ہیں، دستاویزات کے مطابق ڈائریکٹرجنرل ٹورازم اتھارٹی خیبرپختونخوا پر 7 الزامات لگائے گئے ہیں، جن میں کمانڈنٹ ٹورازم پولیس کے قاعدے کے برعکس تعینات کرنا، کے پی ہاسپٹلیٹی اینڈ ٹورازم سیکرٹری ریگولیشن 2012 کی خلاف ورزی کرنا، مشاورتی کمیٹی کی عدم تشکیل، اتھارٹی میں بیشتر اسامیوں کا خالی ہونا اور بیشتر ملازمین کو ایڈیشنل چارج دینا، غیر مجاز غیر ملکی سفر کرنا، لیز کی ادائیگی کی غیر مجاز رسید اور سروس ریگولیشن کے مسودے میں خامیاں ،جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔

کراچی میں دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کے داخلہ پر پابندی عائد

سیکرٹری ٹورازم کی جانب سے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے نام لکھے گئے مراسلے کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ٹورازم اتھارٹی نے اپنے منظور نظر ایڈمن اینڈ فنانس آفیسر کو ٹورازم پولیس کے کمانڈنٹ کا اضافی چارج دیا ہے جو خیبرپختونخوا ٹورازم پولیس ریگولیشن کی صریح خلاف ورزی ہے، اس کے علاوہ ڈپٹی ڈائریکٹر ٹورازم پولیس سمیت کئی اہم عہدے خالی چھوڑے گئے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل ٹورازم اتھارٹی پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس کو ٹورازم پولیس کے کمانڈنٹ کے علاوہ کنٹرولر، ٹورسٹ سروسز ونگ کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے جو خیبرپختونخوا ہاسپٹلیٹی اینڈ ٹورازم سیکٹر ریگولیشن 2012 کی شق 7 کی خلاف ورزی ہے ،ڈائریکٹرجنرل کواس الزام کا بھی سامنا ہے کہ وزیراعلی کے مشیر برائے سیاحت کی باربار ہدایات کے باجودایڈوائزری کمیٹی کو ابھی تک نوٹیفائی نہیں کیا گیا جو کہ ہاسپٹلٹی اینڈ ٹورازم سیکٹر ریگولیشن کی خلاف ورزی ہے اور اس اقدام سے لائسنس کے اجراء کا طریقہ کارٹھیک نہیں ہے۔

سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے نام مراسلے میں کہا گیاہے کہ اتھارٹی میں اس وقت 21 آسامیاں خالی ہیں، جو ڈپوٹیشن کے ذریعے پر کی جاسکتی ہے تاہم ان تمام آسامیوں کا اضافی چارج موجود افسران کو تفویض کیا گیا ہے جس سے ادارے کی کارکردگی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

مراسلے کے ساتھ الزامات میں لکھا گیا ہے کہ سروسر ریگولیشنز کے مسودے میں خامیاں ہیں ، جس سے میرٹ پر مبنی فریم ورک کو نقصان پہنچتاہے ، ڈائریکٹرجنرل ٹورازم اتھارٹی پر ایک الزام یہ بھی لگایا گیا ہے کہ انہوں نے دو افسران کو کابینہ سے منظوری لئے بغیر امریکہ کے شہر نیو یارک میں ایڈونچر اینڈ ٹریول شو کے سرکاری دورے پرلے جایا گیا جوکہ محکمہ خزانہ کے مالیاتی رولز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

editor

Related Articles