وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او آئی ٹی ٹی) نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ڈرامائی طور پر بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے تحت 7.5 ملین گھرانوں تک فائبر آپٹک کنیکٹیویٹی فراہم کی جائے گی اور اگلے 5 سالوں میں 80 فیصد فائبر ٹو سائٹ (ایف ٹی ٹی ایس) کوریج حاصل کی جائے گی۔
یہ اہداف ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ (ڈی آئی پی) کے تحت تیار کی جانے والی آئندہ قومی فائبرائزیشن پالیسی کا مرکزی حصہ ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے فکسڈ براڈ بینڈ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا اور ملک بھر میں اوسط ڈاؤن لوڈ نگ کی رفتار کو 60 ایم بی پی ایس تک بڑھانا ہے۔
پالیسی کی نگرانی کے لیے ایک مخصوص پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) میں بھرتیاں کی جارہی ہیں۔ ایک بار قائم ہونے کے بعد پی ایم یو پالیسی فریم ورک کو حتمی شکل دینے میں مدد کے لیے مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے ایک مشاورتی فرم کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
اس اقدام کا مقصد پاکستان کو فائیو جی اور انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے تیار کرنا ہے جبکہ مضبوط ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کو بھی یقینی بنانا ہے۔
یہ پالیسی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے لیے انتہائی پرکشش ہے اور اس کا مقصد رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو) چارجز کو معقول بنانے، منظوری کے طریقہ کار کو ہموار کرنے اور بنیادی ڈھانچے کے اشتراک کی حوصلہ افزائی جیسے کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز کرکے طویل عرصے سے تعیناتی کی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق اس وقت پاکستان میں 2 لاکھ 11 ہزار کلومیٹر سے زیادہ آپٹیکل فائبر کیبل موجود ہے جو 75 ہزار 967 کلومیٹر طویل فاصلے اور 1 لاکھ 35 ہزار 506 کلومیٹر میٹرو فائبر کے درمیان تقسیم ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ بنیادی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی طلب اور بڑھتی ہوئی تکنیکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
ایم او آئی ٹی ٹی کا ٹیلی کام ونگ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے پالیسی کی ترقی کی قیادت کر رہا ہے۔ لاگت شیئرنگ ماڈل اور سنگل ونڈو کلیئرنس سسٹم تیار کرنے کے لیے مشاورت کے ایک سلسلے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
یہ پالیسی وسیع تر اقتصادی اہداف کے ساتھ بھی مطابقت رکھتی ہے، جس میں درآمدی انحصار کو کم کرنے کے لیے فائبر آپٹک اجزا کی مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جاتا ہے۔ نیشنل فائبرائزیشن پالیسی کا حتمی مسودہ رواں سال کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے جس سے ڈیجیٹل طور پر منسلک اور مستقبل کے لیے تیار پاکستان کی راہ ہموار ہوگی۔