ترکیہ سمیت بحیرہ روم کے کنارے آباد یورپی ممالک میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، بدھ کو ترکیہ، یونان، بلغاریہ اور رومانیہ میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
یورو بحیرہ روم کے زلزلہ پیما مرکز (ای ایم ایس سی) کے مطابق زلزلے کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے جھٹکے دوپہر 12 بج کر 49 منٹ پر محسوس کیے گئے۔
زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ زلزلے کے جھٹکے ترکیہ کے دارلحکومت استنبول میں محسوس کیے گئے، زلزلہ کا مرکز استنبول کے مضافات میں سیلیوری کے قریب بحیرہ مرمرہ تھا۔ ہمسایہ ممالک میں بھی اس کی شدت محسوس کی گئی ۔
زلزلے کے بعد خوف و ہراس سے رہائشی اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ جن لوگوں نے شہر اور آس پاس کے صوبوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے وہ کھلے علاقوں اور سڑکوں پر نکل آئے۔
ترکیہ کے وزیرداخلہ علی یرلیکایا نے سوشل میڈیا پراعلان کیا کہ متعلقہ ریاستی اداروں نے ممکنہ نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے فیلڈ سروے شروع کر دیےہیں۔ انہوں نے لکھا کہ میں زلزلے سے متاثر ہونے والے ہمارے شہریوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔
غیر ملکی میڈیا اور زلزلہ پیما ایجنسیوں کے مطابق گزشتہ 41 گھنٹوں کے دوران ترکیہ میں متعدد زلزلے آئے ہیں جن میں سے سب سے طاقتور زلزلے کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی ہے۔
جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز (جی ایف زیڈ) کے مطابق زلزلے کے جھٹکے بدھ کو 10 کلومیٹر کی گہرائی میں محسوس کیے گئے۔ اس کے بعد کئی آفٹر شاکس آئے جن میں بحیرہ مرمرہ میں 4.9 شدت کا زلزلہ اور استنبول میں 6.2 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔
ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایف اے ڈی) کے مطابق زلزلے کا مرکز صوبہ استنبول کے ضلع سلیوری کے قریب 12 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ سونامی کا کوئی خطرہ جاری نہیں کیا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔
زلزلے کے جھٹکے یونان، اٹلی، پرتگال اور فرانس تک محسوس کیے گئے جس کے بعد علاقائی الرٹ جاری کردیا گیا۔ یہ دو دن سے بھی کم عرصے میں ترکیہ میں ریکارڈ کیا جانے والا ساتواں زلزلہ ہے، جس سے خطے میں زلزلے کی بڑھتے ہوئے خدشات کی نشاندہی ہوتی ہے۔
ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ تاہم کئی صوبوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جانے کے باعث حکام ہائی الرٹ پر ہیں۔ بڑی فالٹ لائنوں پر واقع ترکیہ اکثر زلزلوں کی زد میں رہتا ہے۔
ایمرجنسی ٹیمیں تیار ہیں اور حکومت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ محتاط رہیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔