ایران کے مبینہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودہ صورتحال سے متعلق مختلف بین الاقوامی اور مقامی رپورٹس میں ان کی طویل غیر موجودگی اور محدود رسائی کے حوالے سے تشویشناک دعوے سامنے آئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں مبینہ طور پر اعلیٰ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ جاری کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران میں اہم سیکیورٹی، جنگی اور سفارتی نوعیت کے فیصلے پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ اعلیٰ کمانڈرز اور قریبی حلقوں کی مشاورت سے کیے جا رہے ہیں جس سے ملک میں اجتماعی طرزِ حکمرانی کا تاثر سامنے آ رہا ہے۔
ایرانی عہدیداروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے تاہم ذہنی طور پر مکمل طور پر متحرک اور باخبر ہیں ان کی ایک ٹانگ کے 3 آپریشن ہو چکے ہیں اور انہیں مصنوعی ٹانگ کی ضرورت پیش آئے گی جبکہ ایک ہاتھ کا بھی آپریشن کیا گیا ہے اور وہ آہستہ آہستہ بحال ہو رہا ہے۔ان کا چہرہ اور ہونٹ بھی بری طرح جھلس گئے ہیں جس کے باعث انہیں بولنے میں دشواری کا سامنا ہے اور مستقبل میں پلاسٹک سرجری کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے
کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو عوامی منظر سے دور رکھا جا رہا ہے تاکہ ان کی صحت یا دیگر حساس معاملات کو منظر عام پر نہ لایا جائے اسی وجہ سے ان کی نئی تصاویر یا ویڈیوز بھی جاری نہیں کی گئیں۔
مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اس وقت طبی نگرانی میں ہیں اور ان تک رسائی انتہائی محدود ہے جبکہ ان کے پیغامات صرف تحریری صورت میں مختلف ذرائع کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ان کی عدم موجودگی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ انہیں عوامی طور پر کمزور یا غیر مستحکم دکھانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔