بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی افواج کو پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے ’مکمل اختیارات‘ دے دیے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایک سینیئر سرکاری ذرائع بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے پہلگام واقعے کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات پر کارروائی کے لیے بھارت کی فوج کو ’آپریشنل آزادی‘ دے دی ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق متنازع علاقے پہلگام میں شہریوں پر حملے کے ایک ہفتہ بعد مودی نے منگل کو فوج اور سیکیورٹی سربراہوں کے ساتھ بند کمرے میں میٹنگ کی، اس دوران نریندر مودی نے مسلح افواج سے کہا کہ انہیں پہلگام واقعے کے جواب میں بھارت کے ردعمل کے طریقہ کار، اہداف اور وقت کے بارے میں فیصلہ کرنے کی مکمل آپریشنل آزادی ہے‘۔
حکومت نے مودی کی آرمی چیفس اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو تصاویر جاری کی ہیں۔ بھارتی پولیس نے مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملے کے الزام میں 3 افراد کے لیے مطلوبہ پوسٹر جاری کردیے ہیں جن میں مبینہ طور پر 2 پاکستانی اور ایک بھارتی شامل ہے۔
بھارتی پولیس نے ہر شخص کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے کو 20 لاکھ روپے (23,500 ڈالر) کے انعام کا اعلان کیا ہے اور مبینہ قاتلوں سے تعلق کے شبہ میں کسی بھی مشتبہ شخص کی تلاش میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔
ایران پہلے ہی ثالثی کی پیشکش کر چکا ہے اور سعودی عرب نے کہا ہے کہ ریاض کشیدگی کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کشیدگی کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے جمعے کے روز کہا تھا کہ اس تنازع کو کسی نہ کسی طریقے سے حل کر لیا جائے گا۔