وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ انڈیا یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہد ے کو ختم نہیں کر سکتا۔
دبئی میں پاکستان ڈے کی مناسبت سے پاکستانی قونصلیٹ کے زیر اہتمام سفارتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ یہ تقریب رمضان المبارک اور عید کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی تھی ۔ تقریب میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای ) کے حکام کے علاوہ سعودی عرب، چین، ایران، ترکیہ، یورپ اور افریقا کے کئی ممالک کے سفارت کار شریک ہوئے ۔
صحافی کے سوال پر کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے بارے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرے گا، جس پراحسن اقبال نے کہا کہ عالمی بینک معاہدے کا ضامن ہے اور اس پر عملدرآمد کرانا اس کی ذمہ داری میں شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے سفارتی دوستوں کے ساتھ مل کر بھارت پر پریشر ڈالے گا کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے۔
پروفیسراحسن اقبال نے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی )پر بھارت کی حالیہ سرگرمیوں کو اشتعال انگیز قرار د دیا اور کہا کہ پاکستان ہر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہے، اگر بھارت نے جارحیت کی تو نقصان اسی کا ہی زیادہ ہوگا۔
اپنے خطاب کے دوران انہوں نے پاکستان کے معاشی اہداف سے بین الاقوامی سفار ت کاروں کو آگاہی دی ۔ جن میں اگلے 10سالوں میں برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانا اور معیشت کو 1 ٹریلین ڈالر تک پہنچانا ہدف میں شامل ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو عالمی معاشی پارٹنر کے طور پر لے کر جانے کا ارادہ ہے اور اسی کے لئے کوشاں ہیں۔
اس موقع پر یوم پاکستان تقریب میں عالمی سفارتی برادری سے خطاب میں قونصل جنرل محمد حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے البتہ معاشی ترقی سے پاکستان اپنے اہداف کے حصول کی طرف گامزن ہے۔