اسلام آباد: قومی سلامتی سے متعلق سیاسی جماعتوں کو بیگ گراونڈ بریفنگ جاری ہے جس میں پی ٹی آئی کے سوا تمام بڑی سیاسی جماعتیں شریک ہیں۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیاسی قیادت کو پاکستان کے قومی سلامتی کے مؤقف پر تفصیل سے آگاہ کررہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم اگر پاکستان پر جارحیت مسلط کی گئی تو افواج پاکستان دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان چار قدم آگے ہے اور ہم ہر لحاظ سے اپڈیٹ ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایٹمی ہتھیار کوئی بھی ملک استعمال نہیں کرے گا، اور پاکستان ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنے فرائض ادا کرتا رہے گا۔
خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے مسئلے کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے مشروط کرنا حب الوطنی کو مشروط کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے محترم لیڈرز آئے ہیں اور اپنی یادیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں لیکن قومیں زندہ رہتی ہیں۔ پلومہ واقعہ کے موقع پر ہماری قیادت کا بیشتر حصہ بانی پی ٹی آئی کی فرمائش پر جیلوں میں قید تھا لیکن ہم نے اس وقت بھی قومی یکجہتی میں رخنہ نہیں ڈالا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وطن اور اس کی سلامتی شخصیات سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے، اور قومی بیانیے اور آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔ پی ٹی وی ہیڈکوارٹر میں ان کیمرہ بریفنگ جاری ہے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بریفنگ میں پی ٹی آئی کی عدم شرکت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کبھی پاکستانی بن کر نہیں سوچ سکتی اور اس کے کارکنان اس نازک صورتحال میں بھی اداروں کے خلاف محاذ آرائی کر رہے ہیں۔
اجلاس میں قمر زمان کائرہ، پرویز خٹک، فاروق ستار، فیصل سبزواری، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق، وفاقی وزراء، سابق وزیراعلیٰ محمود خان، سعید غنی، شرجیل میمن اور دیگر رہنما شریک ہیں۔
اس خبر سے متعلق مزید معلومات شامل کی جارہی ہیں۔