کراچی: مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے واقعے کے بعد پاکستانی فضائی حدود کی بھارتی پروازوں کے لیے بندش بدستور جاری ہے، جس کے باعث بھارتی ائیرلائنز کو شدید مشکلات اور بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، پاکستانی فضائی حدود کی بندش کو 10 روز مکمل ہو چکے ہیں، اس دوران 1150 بھارتی پروازیں متاثر ہوئیں اور بھارتی ائیرلائنز کو 225 کروڑ بھارتی روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
بندش کی وجہ سے ائیر انڈیا، آکاسا ائیر، اسپائس جیٹ، انڈیگو ائیر اور ائیرانڈیا ایکسپریس سمیت دیگر ائیرلائنز کی پروازیں شدید متاثر ہو رہی ہیں کیونکہ بھارتی طیاروں کو متبادل روٹس اختیار کرتے ہوئے آدھے بھارت کا چکر لگا کر بحیرہ عرب کے راستے جانا پڑ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، طویل راستوں کی وجہ سے فیول اور دیگر آپریشنل اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، جس سے سب سے زیادہ مالی جھٹکا ایئر انڈیا کو لگا ہے۔ انڈیگو ائیر کو بھی بھاری نقصان کا سامنا ہے، جس کی الماتی اور تاشقند سمیت وسط ایشیائی ممالک کی پروازیں بند پڑی ہیں۔
فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے دہلی، ممبئی، احمد آباد، امرتسر اور بنگلور سمیت دیگر شہروں سے جانے والی تمام بھارتی ائیرلائنز کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ امریکا، یورپ اور برطانیہ جانے والی بھارتی پروازوں کو متبادل راستوں پر موڑا جا رہا ہے، جس کے باعث ان پروازوں کا دورانیہ بڑھ گیا ہے اور عملے کی تبدیلی کے لیے یورپ میں لینڈنگ اور دوبارہ ری فیولنگ کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، بھارتی مسافر بھارتی ائیرلائنز کے بجائے دیگر بین الاقوامی ائیرلائنز کو ترجیح دینے لگے ہیں، اور طویل پروازوں کے باعث مسافر مودی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ پروازیں منسوخ ہونے کی صورت میں ریفنڈز کے حصول میں بھی بھارتی مسافروں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان نے ابتدائی طور پر 23 اپریل سے 23 مئی تک بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل 2019 میں بھی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ائیرلائنز کو 700 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔