بھارت اور بنگلہ دیش نے ایک دوسرے پر تجارتی پابندیاں عائد کردیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارت نے بنگلہ دیش کےلیے ٹرانزٹ سہولت روک دی، سہولت سے بنگلہ دیش اپنی برآمدات بھارتی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سے تیسرے ممالک تک پہنچاتا تھا۔
بھارت نے بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر رش کو ٹرانزٹ سہولت روکنے کا سبب بتایا ہے، بھارتی اقدام کے جواب میں بنگلہ دیش نے بھارت سے روڈ کے ذریعے سوتی دھاگے کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اگست 2024 میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہی تناو کا شکار ہیں، شیخ حسینہ اقتدار سے معزولی کے بعد سے انڈیا میں موجود ہیں اور بنگلہ دیش میں نوبل انعام یافتہ محمد یونس عبوری حکومت کی سربراہی کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیش نے انڈیا سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا بھی بارہا مطالبہ کیا ہے تاکہ اُن کے خلاف بنگلہ دیش میں زیر التوار عدالتی کارروائیاں مکمل کی جا سکیں، شیخ حسینہ پر منی لانڈرنگ اور کرپشن کے ساتھ ساتھ سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ حسینہ واجد ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہیں جبکہ انڈیا نے ان کی حوالگی کے بنگلہ دیش کے مطالبے کا کبھی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی اور تناؤ کی وجہ سے کاروباری کمپنیاں نقصان اٹھا رہی ہیں، سوتی دھاگہ بنگلہ دیش میں کپڑوں کی صنعت کے لیے ناگزیر خام مال ہے جو اب بھی سمندری اور ہوائی راستوں سے انڈیا سے بنگلہ دیش لایا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ چین کے بعد بنگلہ دیش دنیا میں کپڑے برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے جس نے صرف گذشتہ سال میں 38 ارب ڈالر کی کپڑوں کی مصنوعات برآمد کی تھیں۔