بھارت نے جو کیا وہ ناقابلِ معافی ہے، اسحاق ڈار

بھارت نے جو کیا وہ ناقابلِ معافی ہے، اسحاق ڈار

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت کے پاکستان پر بلااشتعال فضائی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان پہلے باضابطہ رابطے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف جو کیا وہ ناقابل معافی ہے۔

ترک ٹیلی وژن ’ٹی آرٹی‘ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں پاکسان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کے پاکستان پر فضائی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔

بھارت نے منگل اور بدھ کی درمیان شب پاکستان اور آزاد جموں کشمیر پر حملے کیے، جسے پاکستان نے صریحاً جنگی کارروائی قرار دیا تھا، پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائی حملوں میں مساجد سے لے کر پن بجلی کے منصوبوں تک 6 پاکستانی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان پر بلااشتعال حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 31 شہری شہید اور 57 زخمی ہوگئے تھے۔جوابی کارروائی میں پاکستان کی مسلح افواج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فضائیہ کے 5 جیٹ طیاروں، 7 ڈرونز کو مار گرایا، ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر اور متعدد چیک پوسٹوں کو تباہ کردیا۔

ترکیہ کے ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے کچھ ایسا کیا ہے جو ناقابل معافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فیصلہ کرے گا کہ ہم مستقبل میں کب اور کس انداز میں اور کس شکل میں ردعمل ظاہر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ پہلا ملک ہے جس نے بھارت کی جارحیت پر مذمت کا باضابطہ بیان جاری کیا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد رات ایک بجے کے قریب مجھے ترکیہ کے وزیر خارجہ کی جانب سے پہلی کال موصول ہوئی۔

دریں اثنا ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے ترکیہ کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے شہدا سے اظہار تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس جذبے کو پاکستان کے لیے ترکیہ کی زبردست حمایت قرار دیتے ہوئے کہا کہ طیب اردوان کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکیہ پاکستان کا ’انتہائی قریبی دوست برادر ملک ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ بھارت کے حملوں کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ کے ذریعے ان سے ذاتی طور پر رابطہ کرنے والے پہلے سفیروں میں سے ایک اسلام آباد میں ترکیہ کے سفیر ہی تھے۔ لہٰذا آپ ہمارے بھائی چارے، ہماری دوستی اور قربت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

ترک صدر نے بحران کے حل کے لیے پاکستان کے تحمل والے رویے کی حمایت کا اظہار کیا۔ ترکیہ کی وزارت خارجہ نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے کیے جانے والے حملے نے جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا ہے اور اس کے اشتعال انگیز اقدامات اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی جاتی ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ہم ترکیہ کے ساتھ اپنی دوستی اور بھائی چارے کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ترکیہ کے علاوہ دیگر ممالک اور اقوام متحدہ جیسے کثیر الجہتی اداروں نے بھی دونوں ممالک کے درمیان فوجی تنازع کے جلد حل کا مطالبہ کیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *