دُنیا کے سامنے امریکا نے خود کو ’سمندری قزاق‘ تسلیم کر لیا، اقوام متحدہ نوٹس لے، ایرانی دفترِ خارجہ کا شدید ردعمل

دُنیا کے سامنے امریکا نے خود کو ’سمندری قزاق‘ تسلیم کر لیا، اقوام متحدہ نوٹس لے، ایرانی دفترِ خارجہ کا شدید ردعمل

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا ’سنگین اعترافِ جرم‘ قرار دے دیا ہے۔

ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کا ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے دوران اپنی بحریہ کے اقدامات کو ’قزاقی‘ سے تشبیہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن عالمی قوانین کو پامال کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ بیان محض کوئی زبان کی لغزش نہیں بلکہ امریکا کی اس مجرمانہ سوچ کا عکاس ہے جو وہ عالمی سمندری حدود میں اپنائے ہوئے ہے۔

عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل

ترجمان اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ جب کسی ملک کا صدر کھلے عام یہ کہے کہ ’ہم قزاقوں کی طرح عمل کرتے ہیں‘ تو یہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان ہی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اسماعیل بقائی

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کے ان غیر قانونی اقدامات اور بین الاقوامی بحری قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کریں۔

ایران کا مؤقف ہے کہ سمندری تجارتی راستوں پر ناکہ بندی اور بحری جہازوں کی ضبطی عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کے مترادف ہے۔

وطن کا دفاع اور اساتذہ کا کردار

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اساتذہ کے عالمی دن پر قوم کے نام ایک متاثر کن پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے ملک کے دفاعی محاذ پر موجود جوانوں کی جرات کو اساتذہ کی تربیت کا ثمر قرار دیا۔

صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ آج ایران کے دفاعی مناظر نے اگر دنیا کو حیران کر رکھا ہے، تو اس کا سہرا ان اساتذہ کے سر ہے جنہوں نے نئی نسل کے دلوں میں ایمان، قربانی، انسانیت اور وطن کی محبت کے بیج بوئے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان ’سمندری جنگ

امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے بحری محاذ پر انتہائی کشیدہ ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی سخت ناکہ بندی کا حکم دے رکھا ہے تاکہ ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر تک لایا جا سکے۔

اس ناکہ بندی کے دوران امریکی بحریہ نے متعدد بار ایرانی ٹینکروں کو روکنے اور انہیں ضبط کرنے کی کوشش کی ہے۔ تہران ان اقدامات کو معاشی دہشتگردی قرار دیتا رہا ہے، تاہم اب صدر ٹرمپ کے اپنے ہی اقدامات کو ‘قزاقی’ کہنے نے اس سفارتی جنگ کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔

کیا امریکا کا اعترافِ جرم قانونی پیچیدگیاں پیدا کرے گا؟

واضح رہے کہ اسماعیل بقائی کا بیان امریکا کو بین الاقوامی عدالتوں کے نوٹس میں لانے کی ایک کوشش ہے۔ صدر ٹرمپ کا بیان، چاہے وہ تضحیک آمیز انداز میں دیا گیا ہو، قانونی طور پر ایران کے لیے ایک مضبوط ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف، صدر مسعود پزشکیان کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اندرونی طور پر نظریاتی بنیادوں کو مضبوط کر رہا ہے تاکہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اساتذہ کے کردار کو دفاعِ وطن سے جوڑنا اس بات کی علامت ہے کہ ایران طویل مدتی مزاحمت کے لیے اپنے تعلیمی اور سماجی ڈھانچے کو بھی جنگی حکمتِ عملی کا حصہ بنا چکا ہے۔

Related Articles