امن و امان اولین ترجیح، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے الحاق پاکستان کی شق ختم کرنے کا مطالبہ کیا،چیف سیکریٹری آزاد کشمیر

امن و امان اولین ترجیح، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے الحاق پاکستان کی شق ختم کرنے کا مطالبہ کیا،چیف سیکریٹری آزاد کشمیر

آزاد جموں کشمیر کے چیف سیکریٹری خوشحال خان اور انسپکٹر جنرل ‘آئی جی’ پولیس ملک لیاقت علی نے ریاست کی موجودہ صورتحال پر اہم ترین انکشافات کیے ہیں۔

چیف سیکریٹری کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت نے عوامی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن حد تک لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔

مطالبات پر عملدرآمد اور ترقیاتی اسکیمیں

منگل کو ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری اور آئی جی آزاد کشمیر نے صحافیوں کے سامنے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق تمام تر تفصیلات رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں:کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک اور بڑا دھچکا، کور ممبر انجم زمان اعوان کا لاتعلقی کا اعلان

چیف سیکریٹری نے واضح کیا کہ وہ مظاہرین کے ساتھ ہونے والی ہر میٹنگ میں خود موجود تھے اور جتنے بھی قابل عمل پوائنٹس تھے، ان پر مکمل عملدرآمد کروایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ تمام ترقیاتی اسکیموں کا نہ صرف اجرا کر دیا گیا ہے بلکہ وہ اب ٹینڈرز کے مرحلے تک بھی پہنچ چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن چیزوں پر عملدرآمد ممکن تھا وہ ہم نے کروائیں، لیکن جو مطالبات قانون اور ریاست کے مفاد میں ممکن نہیں تھے، انہیں پورا نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اربوں روپے کے مالیاتی نقصانات اور وفاقی فنانسنگ

مالیاتی امور پر گفتگو کرتے ہوئے چیف سیکریٹری نے بتایا کہ ایڈوانسڈ ٹیکس سے متعلق کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی بات نہیں مانی گئی، کیونکہ اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے ریاست کو 35 ارب روپے کا بھاری مالی نقصان ہو رہا تھا۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ حکومت پاکستان اس وقت ساڑھے 3 سو ارب روپے باقی پاکستانیوں کے ٹیکسوں سے کاٹ کر حکومت آزاد کشمیر کو فنانسنگ فراہم کر رہی ہے، تاکہ خطے میں سستی بجلی اور آٹے کی سبسڈی کو برقرار رکھا جا سکے۔

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات

آزاد کشمیر میں گزشتہ کئی ماہ سے بجلی کے بلوں پر ٹیکسز، آٹے کی قیمتوں اور دیگر انتظامی امور پر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاجی تحریک چلائی جا رہی تھی۔

مزید پڑھیں:کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی انتشاری سرگرمیوں میں ملوث ، شرپسندوں کی ایک اور آڈیو کال منظرعام پر

حکومت نے عوامی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں تاریخی ریلیف پیکج کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم، حکومت کا مؤقف ہے کہ بنیادی مطالبات پورے ہونے کے باوجود احتجاج کا راستہ اختیار کیا گیا اور تحریک کو بتدریج ریاست مخالف رنگ دینے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد حکومت کو اس کمیٹی کو کالعدم قرار دینا پڑا۔

الحاق پاکستان کی شق اور مہاجرین کی نشستوں کا تنازع

پریس کانفرنس کے دوران چیف سیکریٹری نے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ جب بنیادی مطالبات پورے ہو گئے تو احتجاج کو جاری رکھنے کے لیے نئے جواز تلاش کیے گئے۔

الحاق پاکستان کی شق ختم کرنے کا مطالبہ

چیف سیکریٹری نے بریکنگ نیوز شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا سب سے بڑا اور خطرناک مطالبہ یہ سامنے آیا کہ ایکٹ 74 اور ممبران اسمبلی کے حلف نامے میں سے ’الحاق پاکستان‘ کی بنیادی شق کو ختم کیا جائے۔

مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ اور جارحانہ رویہ

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ راتوں رات مہاجرین کی 12 سیٹوں کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا جو کہ آئینی اور قانونی طور پر ممکن نہیں تھا۔

چیف سیکریٹری کے مطابق پاکستان سے جو مذاکراتی ٹیم آئی تھی، اس کے ساتھ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا رویہ انتہائی جارحانہ اور غیر لچکدار تھا۔

مذاکراتی ٹیم کے بارہا کہنے کے باوجود انہوں نے نہ صرف مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا بلکہ اسلام آباد پر لشکر کشی کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

امن و امان کی صورتحال اور شرپسندی کے ثبوت

آئی جی آزاد جموں کشمیر ملک لیاقت علی نے میڈیا کو بتایا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی شرپسندی سے ریاست کا امن شدید متاثر ہوا ہے۔

شرپسند عناصر نے امن عامہ کو تباہ کرنے کے لیے پولیس فورس پر براہ راست حملے کیے، انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور ہمارے جوانوں کو شہید کیا۔

آئی جی پولیس نے میڈیا کے سامنے ان حملوں اور تشدد کے ناقابل تردید ثبوت بھی پیش کیے۔

لیاقت علی ملک نے واضح کیا ہے کہ قانون کی بالادستی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور ریاست کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے راولاکوٹ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس اہلکار کو شہید کر کے اس کی نعش پر رقص کرنا انسانیت کے زمرے میں آتا ہے؟ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کو صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

سکیورٹی اداروں پر حملے اور توہینِ شہدا

آئی جی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر حملے کیے گئے اور وطن کے دفاع میں جانیں قربان کرنے والے آرمی شہدا کے بارے میں انتہائی نامناسب زبان استعمال کی گئی۔

مخصوص ایجنڈا اور شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی

لیاقت علی ملک نے بتایا کہ اب تک 572 شرپسندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں پولیس اہلکاروں کے قاتل بھی شامل ہیں۔ انہوں نے سوالات اٹھائے کہ کیا گردنیں کاٹ کر نعشیں منگلا ڈیم میں پھینکنے کی دھمکیاں دینا عوامی مسئلہ ہے؟

بھارتی سفارت خانے کے باہر قومی پرچم کو نذرِ آتش کرنا کون سا عوامی مطالبہ ہے؟ سرکاری ملازمین کو اغوا کرنا کس حد تک جائز ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ ایک مسلح جتھہ باقاعدہ مورچہ بند ہو کر ریاست کے خلاف برسرِ پیکار ہے، جس کے نتیجے میں ہماری پولیس کے 4 جوان شہید اور 97 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ یہ عناصر کسی عوامی حقوق کے لیے نہیں، بلکہ ایک مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کا ریاستی انتشار مسترد، پاکستان کی سلامتی اولین ترجیح ہے، کشمیری قائدین کی اہم پریس کانفرنس

مزید برآں ریاست میں سامان ترسیل کرنے والے ایک مال بردار ٹرک کو بھی آگ لگائی گئی۔ تاہم، مظفرآباد اور میرپور ریجن کے عوام نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور دھرنے میں بیٹھے لوگوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

تحریک کے بدلے ہوئے مقاصد اور آئینی چیلنجز

چیف سیکریٹری کی اس پریس کانفرنس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آزاد کشمیر کا احتجاج اب محض بجلی اور آٹے کی سبسڈی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک گہرے سیاسی اور آئینی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

آئینی اور نظریاتی حملہ

حلف نامے سے ‘الحاق پاکستان’ کی شق کو ختم کرنے کا مطالبہ محض ایک انتظامی فرمائش نہیں، بلکہ یہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان موجود دہائیوں پرانے نظریاتی اور آئینی رشتے پر ضرب لگانے کی کوشش ہے۔

حکومت کا اس نکتے کو پبلک کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس تحریک کے پیچھے اب ریاست مخالف ایجنڈا متحرک ہو چکا ہے۔

وفاق پر مالیاتی دباؤ

 ایک ایسے وقت میں جب پاکستان خود معاشی مشکلات کا شکار ہے، آزاد کشمیر کو 350 ارب روپے کی فنانسنگ فراہم کرنا وفاق کی ترجیح کو ظاہر کرتا ہے۔ 35 ارب روپے کے ایڈوانسڈ ٹیکس کی چھوٹ کا مطالبہ ریاست کو دیوالیہ پن کی طرف دھکیلنے کے مترادف تھا۔

عوامی حمایت کی تقسیم

 آئی جی اور چیف سیکریٹری کا یہ دعویٰ کہ مظفرآباد اور میرپور کے عوام نے دھرنے والوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ شرپسند عناصر اب الگ تھلگ ہو رہے ہیں اور عام شہری امن و امان کو ترجیح دے رہا ہے۔

Related Articles