ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان ہی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کئی ممالک مدد کے لیے تیار ہیں، تاہم مذاکرات میں باضابطہ ثالث کی حیثیت پاکستان کو ہی حاصل ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کیمطابق اسماعیل بقائی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اگر مذاکرات کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تو اس حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ روس اور صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ سٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے کے تحت ایران اور روس کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور معاشی شعبوں میں وسیع تعاون موجود ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایران مختلف ممالک کے ساتھ بات چیت کر کے اپنے مؤقف کی وضاحت کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ امریکا کے رویے میں تبدیلی کے بعد تہران سفارتکاری کا راستہ دوبارہ اختیار کرنے کیلئے تیار ہے، صدر مسعود پزشکیان نے یہ بات جاپانی وزیراعظم سنائیتاکاایچی سے ٹیلیفونک گفتگو میں کی۔
اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ خلیج میں عدم استحکام کی وجہ امریکہ اور اسرائیل ہیں، ایرانی جہازوں کے خلاف امریکی بحری قزاقی کو فوری طور پر روکا جائے اور اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد تقریباً حاصل کرچکے ہیں۔ ایران کی ناکہ بندی جینیئس فیصلہ ہے، ایران کو بس کہنا ہوگا کہ وہ ہار گئے ہیں۔ ایران کے ساتھ ٹیلیفون کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔