وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک نوعیت کے سرکاری دورے پر برادر اسلامی ملک سعودی عرب پہنچ گئے ہیں، جہاں سعودی عرب کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ان کا پرجوش استقبال کیا گیا۔
اس دورے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کی اپنے سعودی ہم منصب (وزیر داخلہ) اور دیگر اعلیٰ ترین صدارتی و حکومتی شخصیات سے تفصیلی ملاقاتیں شیڈول ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیرداخلہ داخلہ محسن نقوی سرکاری دورے پرسعودی عرب پہنچ گئے
ان ملاقاتوں میں دونوں برادر ممالک کے مابین تاریخی دوطرفہ تعلقات، سیکیورٹی کے شعبے میں باہمی تعاون، اور مشترکہ دلچسپی کے مختلف علاقائی و عالمی امور پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دوطرفہ روابط کا فروغ اور سیکیورٹی تعاون پر پیش رفت
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کا بنیادی ایجنڈا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف اسٹریٹجک شعبوں، خاص طور پر امن و امان، انسدادِ دہشتگردی اور سرحدوں کے تحفظ میں تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔
ریاض۔ وفاقی وزیرداخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ گئے
شاہ خالد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر سعودی عرب کے وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود نے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی کا پرتپاک استقبال کیا pic.twitter.com/QTbsaEe8hZ— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) June 30, 2026
اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان وفود کے تبادلوں، قیدیوں کی منتقلی کے معاہدوں کی پیش رفت اور قانونی و سفارتی روابط کو مزید مضبوط اور فعال بنانے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوگی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی پاکستانی حکومت کا خصوصی پیغام بھی سعودی قیادت تک پہنچائیں گے۔
مزید پڑھیں:امریکا ایران مسئلہ جلدحل ہو گا، وزیر اعظم اورفیلڈ مارشل پاکستان کی نمائندگی کریں گے ،وزیر داخلہ
پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات دہائیوں پر محیط اور انتہائی پائیدار ہیں، جو ہمیشہ سے معاشی، دفاعی اور مذہبی بنیادوں پر استوار رہے ہیں۔
حالیہ 1 سے 2 سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے دوروں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا آغاز کیا ہے، جن میں مائننگ، زراعت اور آئی ٹی کے شعبے شامل ہیں۔
چونکہ محسن نقوی کے پاس وفاقی وزیر داخلہ کا کلیدی عہدہ ہے، اس لیے ان کے اس دورے کو ملکی سیکیورٹی صورتحال، زائرین اور عمرہ زائرین کی سہولیات کے نظام کو بہتر بنانے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

