گیمنگ انڈسٹری میں پاکستان کے لیے نئی امید، نوجوان کا بڑا کارنامہ

گیمنگ انڈسٹری میں پاکستان کے لیے نئی امید، نوجوان کا بڑا کارنامہ

خیبرپختونخوا کے ضلع مردان سے تعلق رکھنے والے گیم ڈیولپر ولید احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 10 سال کی مسلسل محنت کے بعد پاکستان کا پہلا تھری ڈی (3D) گیم تیار کر لیا ہے، جس کی کہانی سوات سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے کے گرد گھومتی ہے۔

ولید احمد، جو خود کو گیم ڈیولپر، مصنف اور فلم ساز بھی قرار دیتے ہیں، کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل آسان نہیں تھی۔ ان کے مطابق اس دوران انہیں متعدد مشکلات، تکنیکی چیلنجز اور طویل جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا، تاہم مسلسل محنت کے بعد وہ اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں کامیاب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:اب سولر پینل رات اور کمرے کی روشنی میں بھی بجلی بنائے گا؟

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی گیمنگ اور ڈیجیٹل کریئیٹو انڈسٹری کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

ولید احمد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس منصوبے کا ساتھ دیں اور گیم کے ٹریلر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ مقامی ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں مدد مل سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گیم ڈیولپمنٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے مقامی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی تعاون بے حد ضروری ہے۔

editor

Related Articles