الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سیاسی جماعتوں سے متعلق جاری کیے گئے تازہ نوٹیفکیشن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی تاحال ان سیاسی جماعتوں کی فہرست میں شامل ہے جن کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم نہیں کیے گئے جس کے باعث پارٹی کو سربراہ اور مکمل تنظیمی ڈھانچے کے بغیر رجسٹرڈ جماعتوں کی فہرست میں ظاہر کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق چار سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی، تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور پاکستان ریفارم پارٹی اب بھی ان جماعتوں میں شامل ہیں جن کے انٹرا پارٹی انتخابات یا تنظیمی امور کی منظوری تاحال مکمل نہیں ہو سکی۔
الیکشن کمیشن نے جن جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کیے ہیں ان میں عام آدمی تحریک پاکستان، پاکستانی عوامی انقلابی لیگ اللہ اکبر تحریک اور کسان اتحاد عوامی پارٹی شامل ہیں اس حوالے سے چاروں جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کی منظوری کے الگ الگ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
تازہ پیش رفت کے بعد الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی مجموعی تعداد 167 ہو گئی ہے تاہم کمیشن کی فہرست میں پی ٹی آئی کے سامنے تاحال سربراہ اور تنظیمی ڈھانچے کی عدم موجودگی ظاہر کی گئی ہے جو پارٹی کی تنظیمی حیثیت سے متعلق ایک اہم قانونی اور انتظامی معاملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق ہر رجسٹرڈ سیاسی جماعت پر لازم ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر شفاف انٹرا پارٹی انتخابات منعقد کرے، اپنے منتخب عہدیداروں کی تفصیلات کمیشن کو فراہم کرے اور پارٹی آئین کے مطابق تنظیمی ڈھانچہ مکمل رکھے۔ ان تقاضوں کی تکمیل کے بعد ہی الیکشن کمیشن متعلقہ جماعت کے انٹرا پارٹی انتخابات کو تسلیم کرتا ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق پی ٹی آئی سے متعلق یہ تازہ صورتحال آئندہ انتخابی اور تنظیمی معاملات میں اہمیت اختیار کر سکتی ہے، جبکہ پارٹی کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات اور تنظیمی ڈھانچے سے متعلق آئندہ اقدامات پر بھی سیاسی و قانونی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔