صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب بھر میں خشک اور شدید گرم موسم کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید تپش کا سامنا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق صبح سویرے سے ہی سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے اور دن کے آغاز پر ہی درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔
تاہم محکمہ موسمیات نے گرمی سے بے حال شہریوں کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ بارش برسانے والا ایک نیا اور مؤثر موسمی سسٹم 2 جولائی کو ملک میں داخل ہونے جا رہا ہے، جس سے گرمی کا یہ زور ٹوٹ جائے گا۔
لاہور میں آج کا درجہ حرارت اور حبس کی صورتحال
محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں آج کم سے کم درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سورج کی تیز شعاعوں کے باعث زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا قوی امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آج بادل کہاں برسیں گے؟ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی
ہوا میں نمی کا تناسب برقرار رہنے کی وجہ سے شہریوں کو اصل درجہ حرارت سے زیادہ گرمی اور حبس کی شدت محسوس ہو رہی ہے، جس کے لیے طبی ماہرین نے شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
موجودہ موسمی صورتحال اور بارش کے امکانات
موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت لاہور سمیت پنجاب کے کسی بھی حصے میں کوئی بڑا یا مؤثر بارش برسانے والا موسمی سسٹم موجود نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا۔ البتہ شدید گرمی کی وجہ سے بعض علاقوں میں مقامی سطح پر بادل بن سکتے ہیں، جس کے باعث کہیں کہیں عارضی طور پر ہلکے بادل چھانے اور تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی پھلکی بوندا باندی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، مگر یہ گرمی کم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
2 جولائی سے نئے موسمی سسٹم کی آمد کا اعلان
پنجاب کے عوام کے لیے ریلیف کی خبر دیتے ہوئے محکمہ موسمیات نے واضح کیا ہے کہ گرمی کی یہ لہر عارضی ہے۔
ایک نیا، طاقتور اور بارانِ رحمت سے بھرپور موسمی سسٹم 2 جولائی کو پاکستان میں داخل ہوگا، جو سب سے پہلے بالائی علاقوں کو متاثر کرے گا۔
اس نئے سسٹم کے زیرِ اثر لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع اور میدانی علاقوں میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش متوقع ہے۔ اس نئے سسٹم کی آمد سے موسم میں خوشگوار تبدیلی آئے گی اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
مزید پڑھیں:گرمی کا زور ٹوٹنے کو تیار! محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کر دی
جون کے اواخر اور جولائی کے آغاز میں پاکستان بالخصوص پنجاب کے میدانی علاقے شدید گرمی اور ’پری مون سون‘ یا مون سون کی منتقلی کے فیز سے گزرتے ہیں۔
اس دوران جب بھی کوئی فعال مغربی ہواؤں کا سلسلہ یا خلیج بنگال سے آنے والی نم آلود ہوائیں ملک کا رخ نہیں کرتیں، تو درجہ حرارت یکسر بڑھ جاتا ہے۔
2 جولائی کو داخل ہونے والا نیا سسٹم مونسون کی باقاعدہ آمد یا اس سے پہلے کا ایک مضبوط سپیل ہو سکتا ہے، جس کا جڑواں شہروں (راولپنڈی، اسلام آباد) سمیت لاہور، گوجرانوالہ، اور سیالکوٹ کے اضلاع کو شدت سے انتظار ہے۔
موجودہ موسمی صورتحال جہاں عام شہریوں کے لیے پریشان کن ہے، وہاں یہ وفاقی اور صوبائی انتظامیہ کے لیے بھی ایک الرٹ ہے۔
درجہ حرارت کا 40 ڈگری تک پہنچنا اور بارش کا سسٹم نہ ہونا براہِ راست بجلی کی طلب میں ریکارڈ اضافے کا سبب بنتا ہے، جس سے شارٹ فال اور لوڈ شیڈنگ کے مسائل دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔
سیاسی اور سماجی سطح پر، حکومت کو چاہیے کہ وہ اسپتالوں میں ’ہیٹ اسٹروک‘ کاؤنٹرز کو فوری فعال کرے، کیونکہ اچانک گرمی بڑھنے سے ڈائریا اور ڈی ہائیڈریشن کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔
دوسری طرف، 2 جولائی کے نئے سسٹم کی پیشگوئی جہاں گرمی سے ستائے عوام کے لیے امید کی کرن ہے، وہاں واسا اور دیگر بلدیاتی اداروں کے لیے یہ ایک وارننگ بھی ہے کہ وہ 2 جولائی سے پہلے لاہور اور دیگر بڑے شہروں کے نالوں اور نکاسی آب کے نظام کو صاف کر لیں تاکہ پہلی ہی بڑی بارش سڑکوں کو تالاب میں تبدیل نہ کر دے۔

