پیدائشی شہریت سے متعلق صدارتی حکم مسترد، ٹرمپ سپریم کورٹ کے فیصلے پر برہم

پیدائشی شہریت سے متعلق صدارتی حکم مسترد، ٹرمپ سپریم کورٹ کے فیصلے پر برہم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تارکین وطن کے بچوں کو خودکار امریکی شہریت سے محروم کرنے سے متعلق اپنے صدارتی حکم کو سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو کانگریس کے ذریعے تبدیل کرانے کی کوشش کریں گے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی عوامی مقبولیت اور سیاسی حمایت کو بروئے کار لاتے ہوئے پیدائشی شہریت سے متعلق عدالتی فیصلے کو کانگریس کے ذریعے تبدیل کرانے کی کوشش کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا سب سے اہم فیصلہ ’’سلاٹر کیس‘‘ تھا، جس کے ذریعے تقریباً ایک صدی سے نافذ ’’ہمفریز ایگزیکیوٹر رول‘‘ کا خاتمہ کیا گیا۔ ان کے بقول صدارتی اختیارات کا معاملہ سابق امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کے دور سے تنازع کا شکار رہا جب صدر کے متعدد اختیارات محدود کر دیے گئے تھے۔

 یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ انتظامیہ کا نیا وار ! امریکی شہریت منسوخ کرنے کی نئی مہم کاآغاز

انہوں نے دعویٰ کیا کہ روزویلٹ نے صدارتی اختیارات کی بحالی کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز بھی دی، تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ٹرمپ کے مطابق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں نے صدارتی منصب کو اس کے وسیع اختیارات واپس دیے ہیں اور انہیں اس تاریخی مقدمے میں کامیابی حاصل کرنے والے موجودہ صدر ہونے پر فخر ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کو سپریم کورٹ میں دیگر مقدمات میں کامیابیاں ملیں تاہم پیدائشی شہریت سے متعلق مقدمے میں حکومت کو شکست ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ “ہم پیدائشی شہریت کے معاملے میں عدالت سے ہار گئے لیکن اس مسئلے کو کانگریس میں درست کرنے کی کوشش کریں گے۔”

 یہ بھی پڑھیں :ٹیرف سے اضافی آمدن،امریکیوں کو فی کس 2 ہزار ڈالردئیے جائیں گے،ٹرمپ

انہوں نے مزید کہا کہ ریپبلکن پارٹی کے ساتھ سپریم کورٹ نے منصفانہ رویہ اختیار کیا اور حالیہ عدالتی فیصلوں نے آئینی اختیارات سے متعلق کئی دیرینہ قانونی تنازعات کو نئی سمت دی ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ایک علیحدہ مقدمے میں وفاقی ایجنسیوں کے بعض عہدیداروں کو برطرف کرنے سے متعلق صدارتی اختیارات کے حق میں بھی فیصلہ دیا جسے صدر ٹرمپ نے صدارتی اختیارات کی بحالی قرار دیتے ہوئے اپنی بڑی قانونی کامیابی قرار دیا۔

editor

Related Articles