ایران کے تازہ میزائل حملے، حیفہ، تل ابیب نشانے پر، 15 افراد ہلاک، 200 زخمی

ایران کے تازہ میزائل حملے، حیفہ، تل ابیب نشانے پر، 15 افراد ہلاک، 200 زخمی

ایران نے ہفتے کی رات دیر گئے اسرائیل پر ایک طاقتور جوابی میزائل اور ڈرون حملہ کیا جس میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہو گئے، ایران کی جانب سے 10 اسرائیلی طیاروں کو مار گرائے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا اسرائیل پر نیا حملہ ،درجنوں بیلسٹک میزائل داغ دیئے، دھماکوں کی آوازیں

ایران نے ’آپریشن ٹرو پرومیس تھری ‘ کے حصے کے طور پر یہ کثیر الجہتی حملہ حیفا، تل ابیب اور یروشلم سمیت اسرائیل کے بڑے شہروں کو نشانہ بنا کر کیا اسے اسرائیلی فضائی حملوں کا جواب قرار دیا جا رہا ہے جس میں سینیئر ایرانی فوجی کمانڈر اور جوہری سائنسدان شہید ہوئے تھے۔

ہفتے کی رات گئے شروع ہونے والے اور اتوار تک جاری رہنے والے حملوں میں تل ابیب، حیفہ اور یروشلم سمیت اہم اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ 100 سے زیادہ سپرسونک بیلسٹک میزائل داغے گئے جس سے اسرائیل کے شہری علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی اور خوف و ہراس پھیل گیا۔ یہ حملہ تہران اور تل ابیب کے درمیان جاری تنازع میں تازہ ترین اور شدید ترین اضافہ ہے۔

ایران کا یہ حملہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے جس میں میجر جنرل محمد باقری، بریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادہ اور جنرل غلام علی راشد سمیت متعدد اعلیٰ ایرانی فوجی عہدیدار شہید ہوئے تھے۔ یہ اعلیٰ شخصیات اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران شہید ہوئیں جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔

تل ابیب کے شہر حیفا میں شدید جانی نقصان

ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں خاص طور پر اسرائیل کے ساحلی شہر حیفا میں فوجی اور صنعتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی چینلز پر نشر ہونے والی اور سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حیفا آئل ریفائنری کے کچھ حصوں میں بڑی آگ لگی ہوئی ہے۔

 دور سے نظر آنے والے شعلوں نے رات کے وقت آسمان کی جانب کالے دھوئیں کے بادل اُٹھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:’ٹروپرومیس3 ‘: ایران کا اسرائیل پر 5واں بڑا میزائل حملہ، 7 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی

اسرائیلی حکام نے پاور گرڈز اور آئل ڈپوز سمیت اہم انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق کی ہے۔ عبرانی زبان کے ذرائع نے خبر دی ہے کہ حیفا میں امونیا ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس سے آس پاس کے علاقوں میں زہریلے کیمیائی اخراج کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بجلی کی تقسیم کے نیٹ ورکس پر ‘درست حملوں’ کے بعد شمالی اسرائیل کی متعدد بستیوں بشمول ناصرتھ، افولا اور گلیلی کے علاقوں میں بجلی کی بندش کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اسرائیلی شہروں میں خوف و ہراس

ایران کے میزائلوں کی بارش کے بعد تل ابیب اور یروشلم میں سائرن کی آوازیں سنی گئیں جس کی وجہ سے رہائشیوں کو بنکرز میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسرائیلی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملے میں تل ابیب میں ایک کثیر المنزلہ عمارت تباہ ہوئی ہے جس سے عوام میں تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

مجموعی طور پر کم از کم 15 افراد کی ہلاکت اور 200 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 35 دیگر لاپتہ ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون سمیت 3 عام شہری تھے۔

آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام کو فعال کرنے کی کوشش کی گئی لیکن مبینہ طور پر میزائلوں کے شدید حملے کو روکنے کے لیے جدوجہد ناکام ہوگئی، جن میں سے بہت سے سپرسونک میزائل ہدف پر جا لگے۔

اسرائیل کے جوابی حملوں کے دوران تہران میں دھماکے

ایران کے حملے کے فوری جواب میں اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد مقامات پر جوابی حملے کیے۔ ایرانی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں وزارت دفاع اور نوبانید کے علاقے میں ایک فوجی تحقیقی ادارے کو نشانہ بنایا گیا۔

پاسداران انقلاب سے منسلک ایک نجی ایرانی خبر رساں ادارے نے عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہے لیکن شہادتوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے یمن میں ایک علیحدہ فضائی حملے کے دوران حوثی ملیشیا کے فوجی سربراہ محمد الغامری کو شہید کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا اسرائیل کے 2 جنگی طیاروں کو مار گرانے، خاتون پائلٹ کو حراست میں لینے کا دعویٰ

خود تہران میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور رہائشیوں نے رات کے وقت متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔ تاہم یہ رپورٹ درج کیے جانے تک نقصان کی حد واضح نہیں ہے۔

قیادت خطرے میں؟

ایک اشتعال انگیز بیان میں اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے اشارہ دیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ممکنہ ہدف ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہنا چاہتے کہ آیت اللہ خامنہ ای ہمارا ہدف ہیں۔

ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان پر شدید تنقید کی گئی اور اسے خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا گیا۔ ایران کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر ایرانی سرزمین پر حملے جاری رہے تو وہ جوابی کارروائی جاری رکھیں گے۔

آپریشن ’علی بن ابی طالب‘

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے میزائلوں اور ڈرونز کے تازہ ترین حملے کو عید غدیر کے موقع پر شروع کیے گئے ’علی ابن ابی طالب‘ کے کوڈ نام کے تحت بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا تسلسل قرار دیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ حملوں کی تازہ لہر کا مقصد ‘ہمارے وعدے کی پاسداری’ کرنا اور مزید اسرائیلی جارحیت کو روکنا ہے۔

پاسداران انقلاب کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں عماد، قدر اور خیبر شیکان سمیت جدید ترین میزائل استعمال کیے گئے۔ یہ ایران کے جدید ترین میزائل نظاموں میں سے ایک ہیں، جو ریڈار سے بچنے اور انتہائی درستی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں:ایران کیخلاف اسرائیل کا آپریشن جتنے دن لگے، جاری رہے گا ، نیتن یاہو

اس کشیدگی پر بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر تشویش پائی جاتی ہے اور اقوام متحدہ نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کم کریں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے رات گئے ایک بیان میں کہا کہ وہ صورتحال پر ‘گہری تشویش’ کا اظہار کرتے ہیں اور دونوں فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ‘زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں’۔

اسرائیل کے قریبی اتحادی امریکا نے اسرائیلی سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا لیکن ایسے اقدامات کے خلاف بھی خبردار کیا جو پہلے سے ہی نازک مشرق وسطیٰ کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘ہم

صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں’۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *