بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک بار پھر گیڈر بھبکی میں کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہو گا، ہم وہ پانی جو پاکستان جا رہا تھا، نہر بنا کر راجستھان لے جائیں گے، پاکستان کو وہ پانی نہیں ملے گا جو اسے مل رہا تھا۔
اگر جغرافیائی حقیقت اور نقشہ دیکھیں تو دریائے سندھ (Indus River) چین سے لداخ میں کہاں سے گزرتا ہے۔۔۔۔؟ اور وہاں سے اسے راجستھان جیسے صحرائی علاقے تک پہنچانا کوئی سادہ یا ممکن عمل نہیں۔
یہ کوئی پانی کی پائپ لائن نہیں کہ آسانی سے موڑ دی جائے بلکہ پورے دریا کو پہاڑوں، وادیوں اور سرحدوں سے گزار کر اس کے قدرتی بہاؤ کو بدلنا ایک دیوانے کا خواب ہے، جس پر کھربوں روپے، کئی دہائیاں اور درکار ہوگی۔ ایسے غیر حقیقی منصوبے عقل سے زیادہ بھارتی ضد اور غرور کا مظہر ہیں۔
یاد رہے کہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس کے مغربی دریاؤں سے پانی پنجاب اور دیگر ریاستوں کی طرف موڑنے کی شدید مخالفت کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ان ریاستوں کے پاس پہلے ہی تین دریا موجود ہیں تو جموں و کشمیر، جہاں خشک سالی جیسی صورتحال ہے، کا پانی کیوں چھینا جا رہا ہے۔۔۔؟
ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت 113 کلومیٹر طویل نہر کی تعمیر پر غور کر رہی ہے تاکہ اضافی پانی کو موڑا جا سکے، لیکن جب ماضی میں پنجاب نے خود جموں کو پانی دینے سے انکار کیا تو اب انہیں کیوں فائدہ دیا جائے۔۔۔؟ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ریاست خود اپنے پانی سے محروم ہے، وہ کسی اور کو اس کا حصہ دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔
اگر دیکھا جائے تو بین الاقوامی سطح پر متفقہ طور پر تسلیم شدہ قوانین کے تحت پانی پر زیریں علاقوں کا حق ہوتا ہے یعنی ان دریاؤں کے پانی پر پاکستان کا حق ہے اور یہ پاکستان کے دریا ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان متعدد بار کہہ چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں یک طرفہ طور پر دستبرداری کی کوئی گنجائش نہیں اور پاکستان جانے والے دریائی پانی کو روکنا جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے بار بار اس معاہدے کی خلاف ورزیوں نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بھارت مختلف مقامات پر ایسے ڈیمز اور ہائیڈروپاور منصوبے تعمیر کر رہا ہے جو ان دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کرتے ہیں، جن پر پاکستان کا حق ہے۔ ماہرین اسے “آبی جارحیت” (Water Aggression) قرار دیتے ہیں، جو ایک سست اور خاموش ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے بھی اقوام متحدہ، عالمی بینک اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور بھارت کو غیر قانونی آبی منصوبے بند کرنے پر مجبور کریں۔ بلاول بھٹو بھی کہہ چکے ہیں کہ موسمیاتی چیلنجز کے اس دور میں پانی کی قلت اور پانی کی جنگیں پہلے صرف ایک نظریہ تھیں، بھارت پاکستان کا پانی بند کر کے پانی پر پہلی ایٹمی جنگ کی بنیاد رکھ رہا ہے، ہم کہہ چکے ہیں کہ پانی بند کرنا جنگی اقدام کے مترادف ہوگا۔
بھارتی آبی جارحیت پر دفاعی اداروں کی جانب سے بھی واضح اور دو ٹوک پیغام دیا گیا ہے کہ بھارت اگر کسی ایسے منصوبے کی تکمیل کے قریب پہنچتا ہے جو پاکستان کے لیے ماحولیاتی یا اسٹریٹیجک خطرہ بن سکتا ہے، تو پاکستان اس کا بھرپور اور مؤثر جواب دے گا۔
بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان صرف سفارتی محاذ پر نہیں بلکہ دفاعی محاذ پر بھی مکمل طور پر تیار ہے۔یہ پیغام بھارت کے لیے ایک سخت اور واضح انتباہ ہے کہ اگر وہ اربوں ڈالر کی لاگت، برسوں کی محنت، بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی، اور ماحولیاتی و جغرافیائی تبدیل کر کے ایسے بیراج یا آبی ڈھانچے تعمیر کرتا ہے جو پاکستان کے آبی مفادات کو نقصان پہنچائے گا، تو پاکستان ان تنصیبات کو طویل فاصلے سے نان کنٹیکٹ حملوں جیسے میزائل یا فضائی کارروائی سے تباہ کر دے گا۔ اس اقدام سے بھارت کی ساری سرمایہ کاری اور مستقبل کے منصوبے ضائع ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ بھارت کے ہریکے اور مادھو پور ہیڈورکس پہلے ہی پاکستان کی آرٹلری رینج میں ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ دفاعی مؤقف سخت مگر واضح ہے، اگر بھارت نے آبی جارحیت کی، تو پاکستان فیصلہ کن جواب دے گا۔