بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع کا امکان

بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع کا امکان

بھارتی طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کا امکان ہے جس کا نوٹم سہ پہر تک جاری کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستانی فضائی حدود 24 اپریل کو بھارتی طیاروں کے لیے بند کی گئی تھی، جس کے بعد 23 مئی کو ایک ماہ کی توسیع کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق اب دوسرے مرحلے کی پابندی کا نوٹم آج ختم ہونے جا رہا ہے اور اس کے اختتام پر مزید ایک ماہ کے لیے فضائی حدود کی بندش کا نوٹم جاری کیا جائے گا۔

حکومت پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹم میں بھارتی فضائی ٹریفک کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش کی تفصیلات درج ہوں گی، یہ پابندی بھارت کے ساتھ موجودہ کشیدگی کے پیش نظر عائد کی گئی تھی اور اس کا مقصد فضائی حدود کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی طیاروں کو مخصوص راستوں سے گزرنے میں دشواری پیش آتی ہے، اس پابندی کا اطلاق بھارتی طیاروں کے لیے ہو گا تاہم پاکستان کی فضائی حدود دیگر بین الاقوامی پروازوں کے لیے کھلی رہیں گی۔

پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ائیر لائنز کو ایک ماہ میں 800 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ، پابندی برقرار رہنے کی صورت میں بھارتی حکومت نے اگر ائیر لائنز کے مطالبات کے مطابق خصوصی مدد نہیں کی تو انہیں آپریشن برقرار رکھنے کیلئے غیر معمولی اور بڑے فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بھارتی ائیرلائنز کو صرف ایندھن کی مد میں لگ بھگ 500 کروڑ روپے کاجھٹکا  لگا ہے جبکہ اسٹاپ اوور کے 30 دن کے اخراجات 3 ارب روپے لگائے گئے ہیں۔

بھارت کی مشکلات میں اضافہ، جنگ کے باعث 6ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کردیں

ماہرین کے مطابق بوئنگ 777 طیارہ 1 گھنٹے میں 6668 کلوگرام اور ائیر بس اے 319، 320 یا 321 طیارہ 1 گھنٹے میں اوسط 2400 کلوگرام ایندھن استعمال کرتا ہے،  ایک کلوگرام جیٹ ایندھن کی اوسط قیمت اشاریہ 82 ڈالر ہے اور بھارت میں 6668 کلوگرام جیٹ ایندھن کی موجودہ قیمت 5467 ڈالر بنتی ہے، بوئنگ 777 یا 787 طیاروں کی یومیہ 75 گھنٹے اضافی پروازوں صرف ایندھن کی مد میں 4 لاکھ 10 ہزار ڈالر کا اضافی خرچ پڑتا ہے،  اسی طرح ائیر بس اے 319، 320 یا 321 طیارے کی ایک گھنٹے کی پرواز کا اضافی فیول 1968 ڈالر بنتا ہے اور یومیہ 75 گھنٹے اضافی پروازوں پر ایندھن کی مد میں 1 لاکھ 47 ہزار ڈالر کے اضافی اخراجات لگتے ہیں۔

 بھارتی ائیر لائن کی پروازوں کو 2 سے 4 گھنٹے تک اضافی سفر کرنا پڑ رہا ہے مگر یہاں 150 گھنٹے کا حساب کتاب سامنے رکھا گیا ہے،  بھارت سے امریکا، کینیڈا، یورپ، برطانیہ یا دیگر ممالک آنے جانے کیلئے 75 بوئنگ اور 75 ائیر بس طیاروں کے روزانہ 2 گھنٹے اضافی سفر پر 5 لاکھ 57 ہزار 625 ڈالر کا اضافی ایندھن جلانا پڑا ہے، ائیر انڈیا اور دیگر بھارتی ائیرلائنز کے صرف ایندھن کے اضافی اخراجات 5 ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں۔

طویل روٹس کی بھارتی پروازوں کے عملے کو ڈیوٹی ٹائم دورانیے کی وجہ سے ٹرانزٹ ائیرپورٹس پر بدلنا پڑرہا ہے، ساتھ ہی 2 بار لینڈنگ، ری فیولنگ اور ائیرپورٹ چارجز کی مد میں یومیہ لاکھوں ڈالر دینے پڑرہے ہیں جس کے 30 دن کے اخراجات کا تخمینہ ڈھائی سے 3 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، وقت اور نوعیت کا تعین افواج کرینگی، ایران

بندش سے سب سے زیادہ ائیرانڈیا متاثر ہوئی ہے جو حکومت سے امداد کا مطالبہ کرچکی ہے اس کے علاوہ آکاسا ائیر، اسپائس جیٹ، انڈیگو ائیر اور ائیرانڈیا ایکسپریس کی پروازیں بھی پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے جزوی متاثرہیں۔

 امرتسر، دہلی، احمدآباد، بنگلور جے پور کی پروازوں کو لگ بھگ پورے بھارت پر سفر کرکے بحیرہ عرب سے گزرنا پڑ رہا ہے،  ذرائع کے مطابق یہ پابندی برقرار رہی تو بھارتی ائیر لائنز کو کرایوں میں غیر معمولی اضافے کے علاوہ روٹس کے رد و بدل کے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *