ویب ڈیسک۔ بھارتی نیوز ویب سائٹ انڈین ڈیفنس نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO)نے مختلف اقسام کے ہتھیاروں کی فہرست جاری کی ہے جس میں راکٹس، ایئر ٹو ایئر اور ایئر ٹو گراؤنڈ میزائل، لیزر گائیڈڈ بم، ٹارپیڈوز، گرینیڈز، اینٹی ڈرون سسٹمز اور جدید الیکٹرانک وارفیئر سازوسامان شامل ہیں۔
اہم ہتھیاروں میں براہموس سپرسانک کروز میزائل، ایم آر ایس اے ایم اور آکاش ایئر ڈیفنس سسٹمز، پناک راکٹس، ناگ اور ہیلینا اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائلز، ردرا ایم اینٹی-ریڈی ایشن میزائلز، اسمارٹ اینٹی-ایئرفیلڈ ویپنز (SAAW)، لانگ رینج گلائیڈ بمز، ایڈوانسڈ لائٹ ویٹ ٹارپیڈوز اور نیکسٹ جنریشن ویری شارٹ رینج ایئر ڈیفنس سسٹم (VSHORADS-NG) شامل ہیں۔
آزاد ریسرچ کے مطابق DRDO کی جانب سے دکھائے جانے والے اس “ممنوع ” ہتھیاروں کے ذخیرے ، چاہے وہ براہموس میزائل ہوں یا اینٹی ڈرون سسٹمز ، کو صرف ایک فہرست سمجھنا بھول ہوگی۔ درحقیقت یہ بھارت کے اس ارادے کا واضح اور ناقابل تردید اشارہ ہے کہ وہ ہر وہ ہتھیار جمع کر رہا ہے جو ایک غیر ذمہ دارانہ عسکری مہم جوئی کے لیے درکار ہوتا ہے۔
ریسرچ کا کہنا ہے کہ اگر اس فہرست کا بغور جائزہ لیا جائے ، راکٹس، ایئر ٹو ایئر میزائلز، اینٹی ٹینک سسٹمز، ایئر فیلڈ بمز ، تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت دفاع نہیں بلکہ جارحانہ تیاری کر رہا ہے۔
آزاد ریسرچ نے واضح کیا کہ ان ہتھیاروں کا مقصد نہ تو دفاعی مشقیں ہیں اور نہ ہی دفاعی نمائشیں ، یہ درحقیقت ایک منظم، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کے خلاف ممکنہ جارحیت کی تیاری ہے۔ یہ عسکری سازوسامان دھمکی کا ہتھیار ہے، امن کا نہیں۔