ویب ڈیسک۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کی صبح جموں کے ایک سرکاری اسپتال کے احاطے سے چوری کے الزام میں ایک 24 سالہ کشمیری نوجوان کو پولیس نے گرفتار کیا، جسے مبینہ طور پر بغیر قمیض کے ایک پولیس گاڑی کے بونٹ پر بٹھا کر علاقے میں گھمایا گیا۔ نوجوان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور اسے جوتوں کا ہار پہنایا گیا۔
اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس جموں و کشمیر کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ کیا کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر اسی طرح ذلت آمیز سلوک کا سامنا کرنا ہوگا؟ ان کی انسانی عظمت چھین لی جائے گی؟ انہیں برہنہ کر کے شرمندہ کیا جائے گا؟
انہوں نے مزید کہا کہ یہ دراصل پورے نظام اور اس ذہنیت پر شرم کا مقام ہے جو مذہب اور علاقے کی بنیاد پر عوام کی تذلیل میں سرگرم عمل ہے۔ اور یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ایک میجر گوگوئی پہلے ہی اس قسم کی بربریت کے لیے بدنام ہے۔ حکمران حکام اور منتخب نمائندوں کو چاہیے کہ وہ ملوث افراد کو سزا دیں اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔