دریائے سوات میں شدید طغیانی، 7 مقامات پر خواتین اور بچوں سمیت 75 سے زائد افراد بہہ گئے

دریائے سوات میں شدید طغیانی، 7 مقامات پر خواتین اور بچوں سمیت 75 سے زائد افراد بہہ گئے


خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں شدید بارشوں کے باعث دریائے سوات میں طغیانی آگئی، جس کے نتیجے میں 7 مختلف مقامات پر 75 سے زائد افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق 5 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں 20 سے زائد افراد کی تلاش جاری ہے۔ سوات میں شدید بارشوں کے بعد دریائے سوات میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں دریا کے 7 مختلف مقامات پر درجنوں افراد پانی میں بہہ گئے۔

ریسکیو کے مطابق بائی پاس کے مقام پر 17 افراد ڈوب گئے، جن میں سے 4 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں اور 3 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے، جبکہ باقی افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
بائی پاس کے مقام پر دریا میں بہنے والوں میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد شامل ہیں،جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

واقعے کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں، جن میں درجن سے زائد افرادجن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں کو مٹی کے ایک ٹیلے پر پھنسا ہوا دیکھا جا سکتا ہےاور تھوڑی دیر بعد وہ سب دریا میں بہتے نظر آتے ہیں۔

ریسکیو کے مطابق امام ڈھیرئی میں 22 افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے تھےجنہیں بحفاظت نکال لیا گیا۔ریسکیو حکام کے مطابق غالیگے کے مقام پر 7 افراد سیلابی پانی میں پھنس گئے تھے، جن میں سے ایک شخص کی لاش نکال لی گئی ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔

ریسکیو کے مطابق منیار کے مقام پر 7 افراد سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو بچانے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
اسی طرح پنجیگرام میں بھی ایک شخص سیلابی پانی میں پھنس گیا،ریسکیو کے مطابق مٹہ کی علاقہ باره باماخیلہ میں 20 سے 30 افراد سیلابی پانی میں پھنس گئے تھے جنہیں بحفاظت نکال لیا گیا۔

سوات:، دریائے سوات میں بارش کے بعد پانی کا ریلہ 18 افراد کو بہالے گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچ افرادکی لاشیں نکال لی گئی ہیں، تین افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہےمیڈیا رپورٹ کے مطابق سیاہ ناشتہ کر رہے تھے کہ پانی .#TOKAlert#Sawat #rain #flood pic.twitter.com/rJ60y7HaOz

— Tufail Tunio (@tufailtunio1) June 27, 2025

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *