امریکا نے ایران پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز قرار دیدیے

امریکا نے ایران پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز قرار دیدیے

امریکا نے ایران پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز قرار دیدیے ۔ 

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ خط اقوام متحدہ میں امریکہ کی قائم مقام سفیر ڈوروتھی شیا کی جانب سے ارسال کیا گیا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ ایرانی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہے۔‘

خط میں ایران پر کیے گئے حملوں کا جواز اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت پیش کیا گیا ہے، جو اجتماعی خود دفاع کا حق دیتا ہے،  اس آرٹیکل کے تحت، کسی بھی ریاست کو مسلح حملے کی صورت میں فوری طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دفاعی کارروائی سے آگاہ کرنا لازمی ہوتا ہے۔

امریکا نے خط میں کہا ہے کہ ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت ختم کرنا ہدف تھا، ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے اور استعمال کے خطرے کو روکنا ضروری تھا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا کیساتھ دوبارہ مذاکرات ، ایرانی وزیر خارجہ نے تردیدکردی

دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا کہ اگر مستقبل میں انٹیلی جنس رپورٹس میں ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے تشویشناک حقائق سامنے آئے تو وہ دوبارہ حملے کے امکان سے انکار نہیں کریں گے۔

ٹرمپ نے کہا، ’’اگر ایران نے یورینیم کی اس سطح تک افزودگی کی جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں، تو ہم بمباری کے آپشن پر غور کریں گے‘‘۔

علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر مزید حملے روکنے کی ڈیموکریٹک قرارداد سینیٹ میں مسترد ہوگئی ، ریپبلکن اکثریتی سینیٹ نے قرارداد 53 کے مقابلے 47 ووٹوں سے ناکام بنا دی۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، وقت اور نوعیت کا تعین افواج کرینگی، ایران

قرارداد میں ایران پر مزید کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری لازم قرار دی گئی تھی ، اس حوالے سے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر دوبارہ حملے سے بالکل گریز نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ 22 جون کو امریکا نے ایران کی 3 ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *