بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 2 دہائیوں سے بھارت میں ہندوتوا نظریات کے ساتھ حکمرانی کر رہے ہیں، پاکستان کے خلاف نام نہاد آپریشن سندور کے بعد اندرونی اور عالمی سطح پر رسوائی کو چھپانے کے لیے 2 جولائی سے 9 جولائی تک 5 ممالک کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ لیکن اس ’ عالمی دورے‘ کو لے کر اپوزیشن، شہری اور بعض سابق سفارتکاروں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
آزاد ریسرچ کے مطابق یہ دورہ روس، آسٹریا، قطر، برازیل اور جنوبی افریقہ پر مشتمل ہوگا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ نہ صرف اس دورے کی ضرورت مشکوک ہے بلکہ یہ ملکی صورتحال سے غفلت برتنے کا واضح ثبوت بھی ہے۔
اندرونِ ملک بحران اور بیرونِ ملک سفر؟
آزاد ریسرچ کے مطابق ملک اس وقت کئی سنگین مسائل سے دوچار ہے، شدید گرمی، کسانوں کی بدحالی، نوجوانوں میں بے روزگاری کا غصہ اور مودی حکومت کے جھوٹ سے عوامی اعتماد کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم کے غیر ملکی دورے کو ’حقیقت سے فرار‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
کانگریس کی ترجمان سپریہ شرینیت نے سوال اٹھایا کہ ’جب ملک میں کسان مظاہرے کر رہے ہوں، مہنگائی عام آدمی کا جینا دوبھر کر دے اور نوجوان سڑکوں پر انصاف مانگ رہے ہوں، تو ایسے وقت میں وزیر اعظم کا دنیا بھر میں دورہ کرنا کون سی ذمہ داری ہے‘؟۔
مودی کی سفارت کاری یا سیاسی ساکھ بہتر کرنے کی کوشش؟
وزارت خارجہ کے مطابق دورے کا مقصد تجارتی و دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا ہے، مگر تجزیہ کار اسے صرف ’ مودی حکومت کی شبیہہ سنوارنے‘ کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
ایک ریٹائرڈ سفیر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ 7 دن میں 5 ملکوں کا دورہ محض سفارتی پالیسی نہیں، یہ تصویریں کھنچوانے کا ایک مرحلہ ہے، یہ دورہ محض ان ممالک کے سربرہان کے ساتھ فوٹو کھنچوانے، ہاتھ ملانے اور اپنی حکومت کے آخری دور کا جشن منانے کے سوا کچھ نہیں ہے‘۔
سوشل میڈیا پر پہلے ہی طنزیہ تبصرے گردش کر رہے ہیں’ ایک مشہور ’نہرو پیروڈی اکاؤنٹ‘ سے طنزیہ ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ’ بال نریندر 5 مزید ملکوں کے دورے پر نکلے ہیں تاکہ اپنے وزیرِ اعظم ہونے کا الوداعی عالمی دورہ مکمل کر سکیں۔ میں نے انہیں ہاتھ ملانے اور موقع پر ہنسنے کی خاص تربیت دی ہے، اب میں انہیں اور کیا سکھاؤں؟
فضول سفارتکاری پر اٹھنے والی لاگت
بھارتی حکومت ایسے دوروں پر اخراجات کی تفصیل شائع نہیں کرتی، مگر ان کے اخراجات کروڑوں میں ہوتے ہیں، سیکیورٹی، طیارے کا سفر، ہوٹل، پروٹوکول، ایسے وقت میں جب ملک ابھی بھی معاشی بحالی کے عمل میں ہے، یہ دورے عوام کو کھٹکنے لگے ہیں۔
شہری حقوق کی کارکن کویتا کرشنن نے کہا کہ’ جب سرکاری اسپتالوں میں آکسیجن سلنڈر تک نہیں، تب وزیر اعظم کا دنیا گھومنا ترقی نہیں بلکہ دکھاوا ہے‘۔
سوالات جو ابھی بھی جواب طلب ہیں
آزاد ریسرچ کے مطابق ابھی تک اس دورے کے مقاصد، معاہدے یا متوقع نتائج پر کوئی شفاف معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ کیا بھارتی وزیر اعظم پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے؟ کیا عوام کو بتایا جائے گا کہ اس دورے سے ملک کو کیا حاصل ہوگا؟ وزارتِ خارجہ کی طرف سے صرف مبہم بیانات سامنے آئے ہیں‘۔
اپوزیشن کا حکومت سے مطالبہ
متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم لوک سبھا میں آ کر اس دورے کا جواز پیش کریں، خاص طور پر جب عام انتخابات قریب ہیں۔
ٹی ایم سی کی ایم پی مہوا موئترا نے کہا کہ ’ جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہو، تب وزیر اعظم کا غیر ملکی دورہ عوامی نمائندگی کے جذبے کے منافی ہے۔ شفافیت چاہیے، غیر حاضری نہیں‘۔