بھارتی کانگریس رہنما راہول گاندھی نے ایک بار پھر آر ایس ایس اور بی جے پی کے اُس ایجنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے جو برسوں سے بھارت کے جمہوری اور سیکولر چہرے کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت کا زوال اب کسی وقتی سیاسی غلطی یا پالیسی کی ناکامی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک منظم اور خطرناک نظریاتی یلغار کی صورت اختیار کر چکا ہے جسے ہندوتوا فاشزم کہا جا رہا ہے، سیکولر اقدار، جمہوری روایات اور سماجی ہم آہنگی کو منوسمرتی کے پرانے اصولوں کی نذر کیا جا رہا ہے، اور یہی وہ بحران ہے جس کی نشان دہی راہول گاندھی نے کی ہے۔
آزاد ریسرچ ڈیسک کے مطابق بھارت اب محض ایک سیاسی لغزش نہیں رہا یہ اب کھلی ہندوتوا فاشزم کی تلخ حقیقت بن چکا ہے ، سیکولر عناصر کو ایک کونے میں دھکیل دیا گیا ہے، جبکہ آج کا “حقیقی بھارت” وہ زعفرانی لباس میں ملبوس پنڈت ہے جو طے کرتا ہے کہ کون اس ملک کا حصہ ہے اور کون نہیں۔
کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے آئین کے دیباچے میں ‘سوشلسٹ’ اور ‘سیکولر’ الفاظ پر نظرثانی کرنے سے متعلق راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے مطالبہ پر سنگھ کو نشانہ بنایا۔
آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ آر ایس ایس کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوگیا اور وہ آئین نہیں بلکہ منوسمرتی چاہتے ہیں۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے سوشل میڈیا ایکس پر پوسٹ کیاکہ “آر ایس ایس کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ آئین سے انہیں تکلیف ہے کیونکہ یہ مساوات، سیکولرازم اور انصاف کی بات کرتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس-بی جے پی آئین نہیں بلکہ منوسمرتی چاہتی ہے ، وہ غریبوں کے حقوق چھین کر انہیں غلام بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا اصل ایجنڈا، ان سے آئین جیسا طاقتور ہتھیار چھیننا ہے۔”
کانگریس لیڈر نے کہا کہ آر ایس ایس کو خواب دیکھنا چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ اسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا “ہر محب وطن بھارتی آخری سانس تک آئین کی حفاظت کرے گا۔”
یاد رہے کہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے نے کہا تھا کہ “یہ الفاظ بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے ہوئے آئین کے دیباچے میں کبھی نہیں تھے، یہ الفاظ ایمرجنسی کے دوران اس وقت شامل کیے گئے تھے جب بنیادی حقوق معطل تھے، پارلیمنٹ کام نہیں کر رہی تھی، عدلیہ مفلوج تھی۔”
کانگریس کے علاوہ دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے دتاتریہ ہوسابلے کے بیان پر سخت تنقید کی تو دوسری جانب، بی جے پی نے بالواسطہ طور پر ہوسابلے کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی صحیح سوچ رکھنے والا شہری اس کی حمایت کرے گا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ الفاظ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے لکھے ہوئے اصل آئین کا حصہ نہیں تھے۔
آزاد ریسرچ کے مطابق بھارتی کانگریس رہنما راہول گاندھی نے جس منوسمرتی کا حوالہ دیا، وہ ایک قدیم ہندو قانونی متن ہے جس میں غیر ہندوؤں کے لیے نہ کوئی حقوق تھے اور نہ ہی کوئی تحفظ بلکہ انہیں فطری طور پر “باہر والے” سمجھا جاتا تھا، اسی لیے بھارتی آئین اُن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہےکیونکہ یہ ان لوگوں کو برابری اور وقار کا وعدہ کرتا ہے جنہیں منوسمرتی نے غلامی اور ذلت کا مستحق قرار دیا تھا۔
آئین اُن ہی افراد کو مساوی حقوق، انسانی وقار اور شہری آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے، جنہیں منوسمرتی نے صدیوں تک غلامی، ذلت اور پسماندگی کے شکنجے میں جکڑے رکھا تھا۔
آزاد ریسرچ کے مطابق آر ایس ایس-بی جے پی کا منصوبہ صرف ایک سیاسی منصوبہ نہیں یہ ایک تہذیبی واپسی کی کوشش ہے، اُس دور کی طرف جہاں ذات پات کا نظام مقدس تھا اور اختلاف رائے جرم سمجھا جاتا تھا۔