18 لوگ دریائے سوات میں نہیں ڈوبے بلکہ ریاست مدینہ کے نام پر ووٹ لینے والوں کی کارکردگی ڈوبی ہے، معروف صحافی اظہر جاوید

18 لوگ دریائے سوات میں نہیں ڈوبے بلکہ ریاست مدینہ کے نام پر ووٹ لینے والوں کی کارکردگی ڈوبی ہے، معروف صحافی اظہر جاوید

معروف صحافی اظہر جاوید نے کہا کہ اکیسویں صدی میں ایک دریا کے اندر ٹیلے پر 18 افراد صدائیں بلند کرتے رہیں، مدد کے لئے پکارتے رہے، دو گھنٹے تک چیختے رہے لیکن انہیں بچایا نہ جا سکا۔

دریائے سوات کے کنارے یہ لوگ نہیں ڈوبے، یہ وہ کارکردگی ڈوبی ہے جو بارہ سال تک ریاست مدینہ کے نام پر ووٹ لینے والے دکھاتے رہے۔

یہ وہ سانحہ ہے جس نے پاکستان کے ووٹنگ سسٹم کو بے نقاب کیا ہے، جہاں ایک مسخرہ، ایک مداری، اسلام کے نام پر ووٹ لینے والا شخص اپنے صوبے کو ایک بھی ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے حوالے سے ادارہ نہ دے سکا۔

یہ اس نظام کا نوحہ ہے یہ اس نظام کی چیخیں ہیں، جو یہ کہتے رہے کہ ہم پوری دنیا سے وسائل لا کر صوبہ کے پی کے میں لگا دیں گے اور اس کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے قریب ترین لے جائیں گے لیکن ہوتا کچھ یوں ہے کہ پنجاب سے گئے ہوئے ایک خاندان کے اٹھارہ افراد ایک دریا میں پھنسے رہے، چیختے رہے، چلاتے رہے، ان کی تصاویر بنتی رہیں، ان کی ویڈیوز بنتی رہیں، جو سرکاری اداروں کے عہدیداروں تک پہنچتی رہیں۔

حکومت خیبر پختونخواہ نے دریائے سوات کے قریب ہر قسم کی مائننگ پر پابندی عائد کردی

جو وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور تک بھی پہنچیں لیکن ان کی ترجیحات نہیں تھیں، ان کی ترجیحات ان معصوم لوگوں کی جانیں بچانا نہیں تھی، ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔

اظہر جاوید نے کہا کہ ان کی ترجیحات اسلام آباد پر چڑھائی ہے جس کے لئے ریسکیو 1122 یا اس جیسا ادارہ اس کے لوگوں کو اس کی مشینری کو اس کے ساز و سامان کو ریاست پاکستان پر چڑھائی کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔

معروف صحافی اظہر جاوید نے کہا کہ یہ وہ علی امین گنڈاپور ہے جو گیارہ کروڑ روپے کے بسکٹ کھا جاتا ہے، میں اسے سانحہ نہیں کہتا میں اسے قتل کہتا ہوں۔

خیبرپختونخوا کا ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا ادارہ کیا کر رہا تھا، اس کے فنڈز کہاں جاتے ہیں، حکومت پاکستان کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے آپ اس دفعہ بھی چپ رہیں گے تو پہلے کی طرح ان کے جرائم کی فہرست مزید طویل ہوتی جائے گی۔ پہلے ان لوگوں نے لاؤ لشکر کے ساتھ ریاست پر حملہ کیا لیکن وفاق خاموش رہا۔ لیکن ان اٹھارہ لوگوں کا خون اب جواب مانگتا ہے۔ کے پی کے کی حکومت کو جواب دینا ہو گا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو جواب دینا ہوگا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *