جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار چالیں، نئی ’بھیرَو کمانڈو‘ بٹالینز کی تشکیل، پاکستان مخالف فالس فلیگ آپریشن کا خدشہ

جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار چالیں، نئی ’بھیرَو کمانڈو‘ بٹالینز کی تشکیل، پاکستان مخالف فالس فلیگ آپریشن کا خدشہ

بھارتی حکومت ایک بار پھر جنگی جنون کی لپیٹ میں آ گئی ہے اور اب ’بھیرَو کمانڈو‘ کے نام سے نئی کمانڈو بٹالینز کی تشکیل کے ذریعے نہ صرف اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، بلکہ خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دینے کی تیاری بھی کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی انتخابات سے قبل ’را ‘ کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا تیز، نیا جھوٹا ڈراما اور بیانیہ بے نقاب

بھارتی اخبار دی پرنٹ کے مطابق، بھارتی فوج رواں ماہ پانچ نئی’بھیرَو کمانڈو‘ بٹالینز کو فعال کر کے حساس سرحدی علاقوں میں تعینات کرنے جا رہی ہے۔ ان خصوصی یونٹس کو کراس بارڈر انٹرڈکشن، سراغ رسانی اور دشمن کی اہم پوزیشنز کو نشانہ بنانے کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔

رپورٹ کے مطابق، 3 بٹالینز کو چین اور پاکستان کے ساتھ شمالی سرحد پر، ایک کو شمال مشرقی  اور ایک کو مغربی محاذ پر تعینات کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ بھارت کی جانب سے ’آپریشن سندور‘ میں بدترین کارکردگی کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں چین نے پاکستان کو براہِ راست انٹیلیجنس اور معاونت فراہم کی تھی۔

چینی مدد سے پاکستان کو حاصل ہونے والے اسٹریٹیجک برتری نے بھارتی فوج کی اندرونی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا، جس کے بعد بھارت نے ان نئی کمانڈو بٹالینز کی تشکیل کا منصوبہ بنایا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ خاصی طویل ہے، اور ’بھیرَو کمانڈوز‘ کی تشکیل اسی پالیسی کا تسلسل ہو سکتی ہے۔ نئی بٹالینز نہ صرف لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں بلکہ بھارت کی جانب سے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے خدشات کو بھی جنم دے رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:معصوم شہری بھارتی جنگی جنون کا شکار، بچوں اور خواتین سمیت 6 سکھ شہری فوجی قافلے کے ہاتھوں ہلاک

مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار اپنے اندرونی سیاسی و معاشی بحرانوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے۔ پاکستان مخالف پالیسی کو برقرار رکھ کر بھارت ایک مرتبہ پھر امن کے امکانات کو سبوتاژ کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔

بھارت کی جانب سے ’بھیرَو کمانڈو‘ بٹالینز کا قیام خطے کے لیے ایک نیا سیکیورٹی چیلنج ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کی اس اشتعال انگیز حکمت عملی کا نوٹس لے اور خطے کو جنگ کی نئی دلدل میں دھنسنے سے بچائے۔

Related Articles