سرنڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں شامل نہیں، بلاول بھٹو زرداری

سرنڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں شامل نہیں، بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردوں کے خلاف پورے عزم کے ساتھ برسرپیکار ہے، آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے دہشتگردوں کو شکست دینا ہوگی، پاکستان کا دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عزم مضبوط ہے، سرنڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کو ہر محاذ پر تاریخی فتح ملی، بلاول بھٹو

بدھ کو اسلام آباد میں ’دنیا کے لیے پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ ‘ کے عنون سے منعقدہ انٹر نیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے ، پاکستان دہشتگردوں کے خلاف پورے عزم کے ساتھ برسرپیکار ہے، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے۔

انہوں نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے آگے سرنڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں نہیں، دہشتگردی کو شکست دے کہ پاکستان اپنی نسل نو کے مستقبل کو ہر قیمت محفوظ بنائے گا۔

مزید پڑھیں:بھارتی اقدامات غیر منتطقی، ایف اے ٹی ایف جیسے عالمی ادارے اعتراف کر چکے، پاکستان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، بلاول بھٹو

پاکستان ہر گز دہشتگردوں کے آگے سرنڈر کرے گا نہ جھکے گا، افغانستان سے کہا کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگردی کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، دہشتگردی کے خلاف سرنڈر کرنا ممکن نہیں عالمی برادری پاکستان کی مدد کرے۔

بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، بلاول بھٹو زرداری نے افغان عبوری حکومت سے دوحہ معاہدے کو برقرار رکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ انسداد دہشتگردی کی کوششوں میں پاکستان کی حمایت کرے۔ انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے عوام کے جذبات سے فائدہ اٹھانے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا اور خطے میں باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی والدہ اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میری والدہ نے بھی اپنی آخری تقریر میں دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افغانستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کو تیار ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے ماضی میں دہشتگردوں کے خلاف شروع کیے گئے آپریشنز ضرب عضب اور ردالفساد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنزنے دہشتگردوں کے آگے سرنڈر کرنے کے بجائے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ عصر حاضر میں ڈیجیٹل پروپیگنڈا ایک اور بڑا چیلنج ہے۔

بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان خود دہشتگردی کا شکار رہا ہے۔ آئیے مسئلہ کشمیر کو عالمی قراردادوں کے مطابق حل کریں۔ بھارتی قیادت کو تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے بات چیت کرنی چاہیے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردی نے پاکستان کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے ملک کو 92 ہزار جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد اہم معاشی اصلاحات متعارف کرائی ہیں اور دہشتگردی کے خلاف فعال طور پر کام کرنے والے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر ابھرا ہے۔

سابق وزیر خارجہ نے ڈیجیٹل پروپیگنڈے کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ایک جدید اور پیچیدہ چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پائیدار امن کے حصول کے لیے کشمیر سے فلسطین تک انصاف کو برقرار رکھے اور ہمیں اپنی توجہ ڈیجیٹل محاذ پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *