بھارتی معاشرہ انسانوں کے لیے ناسور بن گیا، گھریلو ملازمہ پر بی جے پی رہنما کا بیچ سڑک بہیمانہ تشدد، ویڈیو وائرل

بھارتی معاشرہ انسانوں کے لیے ناسور بن گیا، گھریلو ملازمہ پر بی جے پی رہنما کا بیچ سڑک بہیمانہ تشدد، ویڈیو وائرل

بھارت کا سیکولر معاشرہ انسانوں کے لیے ناسور بنتا جا رہا ہے، بہیمانہ تشدد، مار پیٹ معمول بن گیا ہے جس کی تازہ مثال بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی ) کے سینیٹر رہنما کا بیچ سڑک ایک گھریلو ملازمہ اور اس کے بیٹے پربہیمانہ تشدد ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں خواتین سیاحوں کے لیے خطرات میں تشویشناک اضافہ

بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع گوتم بدھ نگر کے علاقہ بلّی پور (نزدیک دانکور) سے ایک ہولناک واقعہ منظر عام پر آیا ہے، جہاں بی جے پی کے مقامی رہنما عتیق پٹھان کو ایک خاتون سکینہ اور اُن کے بیٹے صفی الرحمن کو سڑک پر بے رحمی سے مارنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

Obviously Uttar Pradesh

📍GautamBuddha Nagar

BJP Leader Violently assaulted a Laborer Woman, Sakina, and her Son, Shafiqur Rahman, using Slippers and Sticks.#UttarPradesh #ModiFailed #ModiDisaster #KheloBharatNiti pic.twitter.com/cs1pDIpKvX

— তন্ময় l T͞anmoy l (@tanmoyofc) July 1, 2025

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عتیق پٹھان اپنے حامیوں کے ہمراہ خاتون اور اُس کے بیٹے کو چپلوں اور ڈنڈوں سے پیٹ رہا ہے۔

اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور انٹرنیٹ صارفین بی جے پی رہنما کو ان کے اس روّیے پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ واقعہ کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عتیق پٹھان کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے اور اسے حراست میں لے لیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ پیر کو دنکور علاقے کے بلاس پور قصبے میں پیش آیا۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ آسام سے تعلق رکھنے والی سکینہ نامی خاتون گزشتہ 15 سال سے بلاس پور میں رہ رہی ہیں اور یومیہ مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں۔ سکینہ نامی خاتون کی اپنی پڑوسی خاتون کے ساتھ بجلی کی تاریں لگانے پر لڑائی ہو ئی۔

مزید پڑھیں:ریپ اور تشدد کے واقعات میں اضافہ، خواتین بھارت کا سفر کرنے سے گریز کریں، امریکہ نے ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی

بحث کے دوران بی جے پی لیڈر عتیق پٹھان جو کسنا منڈل کے وزیر ہیں مبینہ طور پر لڑائی میں کود پڑے۔ شکایت کے مطابق حالات کو پرسکون کرنے کے بجائے، اس نے سکینہ کے بیٹے، صفی الرحمان کو پیٹنا شروع کر دیا، سکینہ نے جب اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کی تو بی جے پی لیڈر نے دونوں پر چپل اور لاٹھی سے بہیمانہ تشدد کیا۔

یہ سارا واقعہ ایک راہگیر نے کیمرے میں قید کر لیا اور فوری یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ وائرل ویڈیو پر عوام کی جانب سے سخت تنقید کی گئی تھی۔ انہوں نے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ग्रेटर नोएडा में BJP नेता ने मां-बेटे को सरेआम चप्पलों से पीटा, वीडियो वायरल होने पर गिरफ्तार !!

ग्रेटर नोएडा के पास दनकौर के बिलासपुर कस्बे में भाजपा के एक नेता ने महिला और उसके बेटे को सरेआम चप्पल से पीटा !!

इस घटना का वीडियो सोमवार को सोशल मीडिया पर वायरल हुआ तो पुलिस ने… pic.twitter.com/RfjEzeKAax

— MANOJ SHARMA LUCKNOW UP🇮🇳🇮🇳🇮🇳 (@ManojSh28986262) July 1, 2025

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے، اور اسے سیاسی طاقت کے غلط استعمال کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے عتیق پٹھان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اُس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے، اور مقدمے میں تشدد، ہراسانی، اور غیر قانونی ہتھیاروں کے استعمال کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ حکام اس بات کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا یہ واقعہ کسی وسیع تر سیاسی دباؤ یا دھمکیوں کا حصہ تو نہیں ہے۔

یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟

آزاد ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق اسے سیاسی تشدد کا جا سکتا ہے، یہ واقعہ اس تشویش کو مزید بڑھا رہا ہے کہ بھارت میں مقامی سیاسی افراد اپنے اثر و رسوخ کو ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔ اس تشدد سے بھارت میں خواتین کے تحفظ پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں، یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت میں صنف نازک دن دھاڑے بھی محفوظ نہیں، بیچ سڑک پر خاتون پر حملہ بھارت میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کو اجاگر کرتا ہے۔

کیا بی جے پی رہنما کے خلاف کارروائی ہوگی

بھارت میں بھارتیا جنتا پارٹی کے انتہا پسندانہ روّیے کے باعث یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا عتیق پٹھان کے خلاف کوئی عدالتی کارروائی کی جائے گی، کیا عتیق پٹھان پر فردِ جرم عائد کی جائے گی؟ اور کیا وہ سزا کا سامنا کرے گا؟

کیا نریندر مودی کی بھارتیا جنتا پارٹی اس واقعے پر مؤقف دے گی یا عتیق پٹھان کو پارٹی سے نکالے گی؟ کیا سول سوسائٹی اور عوام انصاف کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے؟ کیا متاثرہ خاتون اور اس کے بیٹے کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے گا؟۔

یہ واقعہ نہ صرف گوتم بدھ نگر بلکہ پورے بھارت کے لیے ایک سنگین لمحۂ فکریہ ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ انصاف کس حد تک ہوتا ہے یا پھر یہ معاملہ دیگر سیاسی تشدد کے واقعات کی طرح خاموشی کی نذر ہو جاتا ہے۔

Related Articles