آزاد فیکٹ چیک نے ایک بار پھر بھارت سے چلنے والے ایک X (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ کی جانب سے پھیلائے گئے غلط دعوے کو بے نقاب کیا ہے ۔
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے ایک (سابقہ ٹوئٹر) بھارتی اکاؤنٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو چین سے J-10C لڑاکا طیارے موصول ہوئے ہیں، تاہم، آزاد ذرائع سے کی گئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران نے چین سے ایسا کوئی دفاعی ہتھیار وصول نہیں کیا، اور یہ دعویٰ محض افواہ اور گمراہ کن معلومات پر مبنی تھا۔
Azaad Fact Check has debunked fake news spread by an India-based X account, falsely claiming that Iran received Chinese J-10C fighter jets.
Iran has not received any J-10C Fighter Jets from China. https://t.co/tizUorW1G7pic.twitter.com/gSFlyhrmJd
یہ غلط معلومات دانستہ طور پر پھیلائی گئی تھیں تاکہ علاقائی دفاعی توازن کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کی جا سکیں ، آزاد فیکٹ چیک نے مختلف معتبر بین الاقوامی دفاعی رپورٹس، سیٹلائٹ ، اور دونوں ممالک کے سرکاری بیانات کا بغور جائزہ لیا، مگر ایران کو J-10C طیارے فراہم کیے جانے کے کوئی شواہد یا تصدیق نہ مل سکی، چین کی وزارتِ دفاع یا ایران کے کسی دفاعی ادارے کی جانب سے بھی اس نوعیت کا کوئی اعلان یا معاہدہ سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ J-10C چین کا چوتھی نسل کا جدید لڑاکا طیارہ ہے جو ایڈوانس ریڈار، میزائل اور ملٹی رول ٹیکنالوجی سے لیس ہے، یہ طیارہ چین کے دفاعی نظام کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے، اور اس کی برآمدات کے حوالے سے چین انتہائی محتاط حکمت عملی اختیار کرتا ہے ، اگر ایران کو اس نوعیت کا ہتھیار دیا جاتا تو یہ ایک بڑی بین الاقوامی خبر ہوتی، جسے سرکاری سطح پر اجاگر کیا جاتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پر فیک نیوز کے ذریعے عوامی رائے کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایسی خبریں خطے میں غیر ضروری کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہیں، اس لیے ان کا فوری فیکٹ چیک اور تردید ضروری ہے، سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسی خبروں پر فوری یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات پر انحصار کریں۔
آزاد فیکٹ چیک نے اس واقعے کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا ہے کہ کیسے غلط معلومات سچ کے لبادے میں پیش کی جاتی ہیں،عوام کو جھوٹے بیانیے سے بچنے کے لیے ہوشیار رہنا چاہیے۔