مہنگائی کا طوفان، شرح 15.28 فیصد تک پہنچ گئی، ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ جاری

مہنگائی کا طوفان، شرح 15.28 فیصد تک پہنچ گئی، ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ جاری

وفاقی ادارہ شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 15.28 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اس ہوشربا اضافے کی سب سے بڑی وجہ بنیادی اشیائے خورونوش، بجلی کے نرخوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا مسلسل اضافہ ہے۔

بیورو کے مطابق، ہفتہ وار بنیاد پر بھی افراطِ زر کے اشاریے میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.46 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ عوامی بجٹ پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

سالانہ بنیادوں پر قیمتوں کو پر لگ گئے، بجلی، آٹا اور پیاز سرفہرست

ادارہ شماریات کے مطابق، سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ مہنگی ہونے والی اشیا میں پیاز سرفہرست رہا، جس کی قیمت میں 79.76 فیصد کا ناقابلِ یقین اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:ہفتہ وار مہنگائی میں مزید اضافہ ، ٹماٹر، آلو سمیت 25 اشیاء کی قیمتیں بے قابو

پیاز کے بعد ٹماٹر کی قیمتوں میں 68.59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دیگر بنیادی ضروریات کی بات کی جائے تو پہلی سہ ماہی کے بجلی کے نرخوں میں 59.40 فیصد، آٹے میں 58.72 فیصد اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) میں 52.66 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

اسی طرح توانائی کے شعبے میں پیٹرول کی قیمت میں 44.73 فیصد اور ڈیزل میں 44.39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بکرے کا گوشت 16.30 فیصد، مرچ پاؤڈر 15.20 فیصد، گائے کا گوشت 12.86 فیصد، لہسن 10.74 فیصد اور ڈبل روٹی 8.67 فیصد مہنگی ہوئی۔

ہفتہ وار بنیاد پر اتار چڑھاؤ، ٹماٹر اور مرغی مہنگی، پیاز اور دالیں سستی

صرف ایک ہفتے کے دوران قیمتوں میں ہونے والے ردو بدل کا جائزہ لیا جائے تو ٹماٹر کی قیمت میں 16.65 فیصد، آلو میں 6.82 فیصد اور مرغی کے گوشت میں 5.60 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔

اس کے علاوہ واشنگ صابن 1.16 فیصد، گڑ 0.65 فیصد، بکرے کا گوشت اور ایل پی جی 0.51 فیصد، شرٹنگ 0.48 فیصد، لانگ کلاتھ 0.43 فیصد، انڈے 0.35 فیصد، تازہ دودھ 0.29 فیصد اور دہی کی قیمت میں 0.26 فیصد اضافہ ہوا۔

اس کے برعکس ہفتہ وار بنیاد پر کچھ اشیا سستی بھی ہوئیں جن میں پیاز 2.98 فیصد، لہسن 2.51 فیصد، کیلے 1.28 فیصد، پیٹرول 1.06 فیصد، ماش کی دال 1.04 فیصد، پسا ہوا نمک 0.95 فیصد، مونگ کی دال 0.61 فیصد، آٹا 0.53 فیصد، ڈیزل 0.51 فیصد اور چنے کی دال 0.04 فیصد سستی ہوئی۔

سالانہ بنیاد پر کن اشیا میں کمی آئی؟

جہاں ایک طرف بیشتر اشیا مہنگی ہوئیں، وہیں سالانہ بنیاد پر آلو کی قیمت میں 41.09 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ دیگر سستی ہونے والی اشیا میں انڈے 26.98 فیصد، چنے کی دال 22.32 فیصد، چینی 17.51 فیصد، پسا ہوا نمک 14.09، فیصد، مسور کی دال 12.25 فیصد، مونگ کی دال 5.48 فیصد اور مرغی کا گوشت 4.24 فیصد سستا ریکارڈ کیا گیا۔

حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

واضح رہے کہ گزشتہ رات وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بڑی کمی کا اعلان کیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس حالیہ فیصلے اور قیمتوں میں کمی کے مثبت اثرات جاری ہفتے کے اعداد و شمار میں شامل نہیں ہیں، بلکہ اس کا حقیقی اثر اگلے ہفتے کے اختتام پر جاری ہونے والی رپورٹ میں اشیا کی قیمتوں میں واضح طور پر ظاہر ہوگا۔

پاکستان میں ساختی معاشی چیلنجز اور آئی ایم ایف کی شرائط

پاکستان طویل عرصے سے شدید معاشی چیلنجز اور افراطِ زر (مہنگائی) کی لہر کی زد میں ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگراموں کے حصول اور معاشی اصلاحات کے نام پر حکومت کو بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ کرنا پڑا اور پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی ٹیکس عائد کرنے پڑے۔

مزید پڑھیں:امریکا ایران تنازع حل ہوا توپاکستان کو بڑا معاشی ریلیف ملے گا، مہنگائی 6 سے 7 فیصد تک گر سکتی ہے، محمد اورنگزیب

بجلی کے نرخوں میں 59.40 فیصد اور آٹے میں 58.72 فیصد کا سالانہ اضافہ براہِ راست انہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ماضی میں بھی جب کبھی بجلی اور ایندھن مہنگا ہوا، اس کا اثر لاجسٹکس اور سپلائی چین پر پڑا، جس سے ٹماٹر، پیاز اور دیگر سبزیوں کی مقامی قیمتیں بھی بڑھ گئیں کیونکہ دیہی علاقوں سے شہروں تک مال پہنچانے کے اخراجات دگنے ہو چکے ہیں۔

عام آدمی کی قوتِ خرید

سالانہ بنیاد پر مہنگائی کا 15.28 فیصد ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ عام آدمی کی قوتِ خرید شدید متاثر ہو چکی ہے۔ جب بجلی 59 فیصد اور آٹا 58 فیصد مہنگا ہو جائے، تو غریب خاندانوں کا نصف سے زائد بجٹ صرف روٹی اور بل کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔

پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں 68 سے 79 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ زراعت پر مبنی ملک ہونے کے باوجود ہم مقامی مارکیٹ میں سپلائی چین اور ذخیرہ اندوزی کو مانیٹر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ہفتہ وار ریلیف بمقابلہ سالانہ دباؤ

اگرچہ پیاز اور آٹے کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیاد پر 0.53 سے 2.98 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے، لیکن یہ کمی سالانہ بنیاد پر ہونے والے 58 سے 79 فیصد کے بڑے اضافے کے سامنے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ عام صارف کو اس وقت تک ریلیف محسوس نہیں ہوگا جب تک یہ قیمتیں مستقل بنیادوں پر نیچے نہیں آتیں۔

پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا مستقبل

وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ رات پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کی جانے والی بڑی کمی معاشی لحاظ سے ایک مثبت سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چونکہ ڈیزل براہِ راست ٹرانسپورٹیشن اور زرعی ٹیوب ویلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت کم ہونے سے اگلے ہفتے ٹماٹر، مرغی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔ تاہم، چیلنج یہ ہوگا کہ آیا ضلعی انتظامیہ اس کمی کا فائدہ دکانداروں کے ذریعے عوام تک منتقل کروا پاتی ہے یا نہیں۔

Related Articles