بھارت کیجانب سے چین کے مذہبی معاملے میں مداخلت، چین کا سخت ردعمل

بھارت کیجانب سے چین کے مذہبی معاملے میں مداخلت، چین کا سخت ردعمل

بھارت کی جانب سے چین کے مذہبی معاملے میں مداخلت پر چینی سفیر کا سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

مودی سرکار کی سرپرستی میں بھارت عالمی سطح پر رسوائی کا شکار  ہو رہا ہے ،  بی جے پی کی کتھ پتلی بن کر مودی کی حکومت نے خود بھارت کو انتشار کا شکار بنا دیا ہے اور اب مودی سرکار کی چین کے پرامن خطے کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش  بھی کی جا رہی ہے۔

بھارتی عہدیدار کی جانب سے چین کے مذہبی معاملے پر تبصرہ سامنے آنے کے بعد بھارت میں چین کے سفیر ژو فیہونگ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بھارت کی عجیب وضاحتیں: شکست کا ملبہ چین اور ترکیہ پر ڈالنے لگا

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام کی دلائی لاما سے متعلق حالیہ باتیں چین کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت ہیں۔

چینی سفیر ژو فیہونگ نے کہا کہ دلائی لاما کا سلسلہ نسب چین کے تبت میں ہی تشکیل پایا، چین مذہبی امور میں آزادی اور خودمختاری کے اصول پر قائم ہے، مذہبی عہدوں کی منظوری کا اختیار صرف چین کو حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں :آپریشن سندور کا خفیہ نقصان بے نقاب، بھارت کا ہلاک فوجیوں کو اعزازات دینے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ کسی بیرونی تنظیم یا ریاست کو چین کے معاملات میں مداخلت کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی ، بھارت کی جانب سے دلائی لاما کے جانشین پر تبصرہ چین کی خودمختاری پر کھلا وار ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ  بھارت کا چین کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کرنا سفارتی آداب کی خلاف ورزی بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 22 منٹ کی فتح‘ کا افسانوی بیانیہ: مودی آپریشن سندور کی حقیقت چھپانے میں ناکام

چین کے بدھ مت، تبت اور ژی جیانگ پر بھارتی عہدیداران کا تبصرہ مودی سرکار کی اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *