ایران، اسرائیل تنازع کے بعد سفارتی کوششوں میں تیزی، ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات

ایران، اسرائیل تنازع کے بعد سفارتی کوششوں میں تیزی، ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات

ایران اور اسرائیل کے حالیہ تنازع کے بعد ایک اہم سفارتی پیش رفت میں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے جدہ میں ملاقات کی ہے۔ گزشتہ سال سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد یہ کسی اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا سعودی عرب کا پہلا دورہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم اور سعودی سفیر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، قطر میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے پر شدید تشویش کا اظہار

واضح رہے کہ یہ ملاقات 12 روزہ ایران اسرائیل جنگ کے بعد ہوئی ہے، جس میں اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی گئی، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے، بالآخر، امریکہ کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی، جس نے ایک ممکنہ علاقائی بحران کو ٹال دیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق عباس عراقچی اور ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان بات چیت ’مثبت اور نتیجہ خیز‘ رہی، جس میں دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا اور خطے میں تازہ ترین حالات اور جاری کوششوں پر بات چیت کی۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان نے اس امید کا اظہار کیا کہ جنگ بندی سے ایسے حالات پیدا ہوں گے جو ’خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیں گے‘، اور انہوں نے تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔

عباس عراقچی نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا، جس میں ایران کے اعلیٰ فوجی افسران اور جوہری سائنسدان شہید ہوئے تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے بھی علیحدہ ملاقاتیں کیں، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے سفارتی روابط کی عکاسی کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب ، چین سمیت متعدد ممالک کی ایران پر ’اسرائیلی جارحیت‘ کی مذمت

13 جون کو اسرائیل کی جانب سے کی گئی جارحیت، جسے تہران نے ’بلااشتعال حملہ‘ قرار دیا، نے خطے میں کشیدگی کو ہوا دی۔ امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد، ایران نے قطر میں امریکی اڈے کو نشانہ بنایا۔ بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد صورتحال میں بہتری آئی۔

اگرچہ حالیہ جھڑپوں نے خطے میں تعلقات کو کشیدہ کیا، ایران اب اپنے خلیجی ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی کا دورہ تہران کی جانب سے ریاض اور دیگر عرب دارالحکومتوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ ایران اب بھی سفارتی حل میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ایران اور سعودی عرب نے 2023 میں چین کی ثالثی سے ایک معاہدے کے تحت باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات بحال کیے تھے، جس سے برسوں پرانی کشیدگی کا خاتمہ ہوا۔

اسرائیل کے ساتھ حالیہ تنازع سے قبل، سعودی عرب نے امریکا کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات کی حمایت کی تھی  اور اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ تصادم کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے۔

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں عباس عراقچی نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر تصادم کو ہوا دے رہا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:جارحیت کیخلاف فخر اور بہادری سے اپنا دفاع کرینگے ، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

انہوں نے لکھا کہ ’ایران اب بھی سفارتکاری میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن ہمیں آئندہ مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ شکوک و شہبات ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ دوبارہ بات چیت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب وہاں سے ’حقیقی سنجیدگی اور برابری کی بنیاد پر معاہدے‘ کی آمادگی دکھائی دے۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو عندیہ دیا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکی حملوں کے بعد اعتماد کی شدید کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

جدہ میں ہونے والی یہ ملاقات خطے میں توازن بحال کرنے اور مکالمے کے ذریعے امن کو فروغ دینے کی ایک محتاط لیکن امید افزا کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *