پشاور: سینیٹ انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا میں اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
نجی ٹی وی آج نیوز کے ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے اراکین صوبائی اسمبلی کو ہدایت کی تھی کہ مشعال یوسفزئی کے سینیٹ کاغذات نامزدگی پر دستخط نہ کیے جائیں، تاہم اس ہدایت کے باوجود دو اراکینِ اسمبلی، شکیل احمد خان اور طارق اریانی نے ان کے کاغذات پر دستخط کر دیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے واضح طور پر پارٹی پالیسی کے تحت دستخط سے روکا تھا، لیکن مشعال یوسفزئی نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیے، جن میں شکیل احمد خان بطور تجویز کنندہ اور طارق اریانی بطور تائید کنندہ شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ شکیل احمد خان کی مبینہ “ہٹ دھرمی” پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے انہیں صوبائی کابینہ سے برطرف کر دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے اندرونی اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف مخصوص نشستوں سے محروم ، نظر ثانی کی درخواستیں منظور
دوسری جانب رکن اسمبلی طارق اریانی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ علی امین کو عمران خان کی رہائی عزیز نہیں ہے ہماری اس حکومت میں کرپشن عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت سے زیادہ ہے پارٹی کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔
مشعال اعظم سینٹ امیدوار اور صوبائی حکومت پر اپنے ممبر اسمبلی کے کرپشن کے سنگین الزامات
عاطف خان اور بیرسٹر گوھر نے بتایا کہ عمران خان سینٹ کیلئے مشال اعظم کو امیدوار بنانا چاہتے ہیں لیکن علی امین گنڈاپور نے صاف انکار کردیا ہے اب ہماری نظریں آپ اور شکیل احمد کی طرف ہیں جس پر… pic.twitter.com/ycLod2hrSb
— Muhammad Faheem (@MeFaheem) July 10, 2025