ایران نے امریکا کیساتھ جوہری مذاکرات کے لیے کڑی شرط رکھ دی

ایران نے امریکا کیساتھ جوہری مذاکرات کے لیے کڑی شرط رکھ دی

اسرائیل کے حملوں کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے پر ہونے والے مذاکرات کا پانچواں دور تاحال تعطل کا شکار ہے۔

تفصیلات کے مطابق فرانسیسی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی سے متعلق سوال پر کہا کہ امریکا غلطیوں کا ازالہ کرے تو مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا معاوضہ طلب کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی خفیہ ایجنسی کا نیا شوشہ: آپریشن سندور اور انڈیا کا نیا نظریہ ڈیٹرنس، کتاب میں اسپیلنگ غلطیوں، پیراگرافس کی تکرار اور غلط اعدادو شمار کی بھرمار

ایرانی وزیرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات ہوں یا مذاکرات کی بحالی ہو ، وہ با وقار اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہوں گے۔ جس کے لیے امریکا کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے پر مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکا کو ایران پر مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت بھی دینا ہوگی۔

مزید پڑھیں: بھارتی انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد پاکستان ہاکی ٹیم کا بھارت نہ جانے کا فیصلہ

ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ بعض دوست ممالک یا ثالثوں کے ذریعے ایک سفارتی ہاٹ لائن قائم کی جا رہی ہے.تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ عمان میں تعطل کے شکار امریکا اور ایران جوہری مذاکرات کے پانچویں دور کا آغاز کب سے ہوگا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *