190 ملین پاؤنڈ کیس بحریہ ٹاؤن سکینڈل میں شہزاد اکبر ماسٹر مائنڈ قرار

190 ملین پاؤنڈ کیس بحریہ ٹاؤن سکینڈل میں شہزاد اکبر ماسٹر مائنڈ قرار

ملین پاؤنڈ کے بڑے اسکینڈل میں نئی تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں، جن میں اشتہاری مجرم مرزا شہزاد اکبر، جو سابق وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب (SAPM) اور اثاثہ بازیابی یونٹ (ARU) کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں،ان کو  ماسٹر مائنڈ قراردیا گیا ہے  ۔

شہزاد اکبر کیس

ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں اشتہاری مجرم مرزا شہزاد اکبر، جو سابقہ وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب اور اثاثہ جات بحالی یونٹ (ARU) کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں،ان  کے خلاف اہم شواہد منظر عام پر آ گئے ہیں۔

شہزاد اکبر پر اختیارات کا غلط استعمال دفعہ 9a(vi) NAO 1999 کے تحت اور جرم کے ارتکاب میں معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے، جو کہ دفعہ 9a(xii) NAO 1999 کے تحت آتا ہے۔

تحقیقات کے دوران مرزا شہزاد اکبر کو پورے غیر قانونی منصوبے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا، جس نے پاکستان کی ریاست کے لیے مختص جرائم کی  رقم کو بحریہ ٹاؤن کراچی کے ذمے میں رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان کے نام پر منتقل کرنے کا انتظام کیا۔

یہ فنڈز ریاستی خزانے کی بجائے رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان کے نام پر ایک اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، شہزاد اکبر نے 6 نومبر 2019 کو ذاتی طور پر “Confidentiality Deed” پر دستخط کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا،  اس نے رجسٹرار کے اکاؤنٹ کو فنڈز وصول کرنے کے لیے “Designated Account” قرار دیا اور اسے ریاست پاکستان کے سرکاری اکاؤنٹ کے طور پر پیش کر کے حکام کو گمراہ کیا جبکہ  شریک ملزم ضیاء المشتبہ نسیم نے اس معاہدے پر گواہ کے طور پر دستخط کیے۔

مزید برآں، اشتہاری مجرم مرزا شہزاد اکبر نے 03.12.2019 کو کابینہ اجلاس  میں “اکاؤنٹ فریزنگ آرڈرز (AFOS) اور جرائم کی رقم کی پاکستان میں واپسی کے لیے ایجنڈا نمبر 2” پیش کیا، حالانکہ اس نے جان بوجھ کر کابینہ سے یہ حقیقت چھپائی کہ وہ پہلے ہی 06.11.2019 کو “Confidentiality Deed” پر دستخط کر چکا تھا اور اسے NCA کو پیش کر چکا تھا۔

شہزاد اکبر کے بین الاقوامی دورے اور خفیہ مذاکرات

سرکاری ریکارڈز کے مطابق شہزاد اکبر اور ضیاء المشتبہ نسیم نے 2019 میں دو بار برطانیہ کا دورہ کیا۔ یہ دورے فروری اور مئی میں ہوئے، جن میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) اور برطانوی ہوم سیکریٹری سے ملاقاتیں شامل تھیں، جن کا تعلق شہریوں کی ریکوری اور حوالگی کے معاملات سے تھا ۔ تاہم ان اہم مذاکرات کے باوجود، پاکستان کے اہم اداروں بشمول نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، اور اسٹیٹ بینک کے نمائندوں کو جرائم کی رقم کی واپسی کے بارے میں مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا،  اس طرح لاعلم رکھنے سے انہوں نے پاکستان کو 190 ملین پاؤنڈ کا بڑا مالی نقصان پہنچایا، جس کے لیے شہزاد اکبر کو مشترکہ طور پر ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

شہزاد اکبر کے خلاف اہم شواہد

ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں اشتہاری مجرم مرزا شہزاد اکبر، جو سابقہ وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب اور اثاثہ بازیابی یونٹ (ARU) کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں، کے خلاف اہم شواہد منظر عام پر آ گئے ہیں۔

سرکاری ریکارڈز کے مطابق، وزیراعظم کو بھیجے گئے نوٹس میں تصدیق کی گئی کہ برطانوی حکومت نے پاکستان کی ریاست کو فنڈز کی واپسی پر رضا مندی ظاہر کی تھی، بشرطیکہ “Confidentiality Deed” پر دستخط کیے جائیں اس کے باوجود، شہزاد اکبر نے کابینہ کی منظوری حاصل کرنے سے کئی ہفتے پہلے یعنی یہ معاہدہ 6 نومبر 2019 کو دستخط کیا۔

3 فروری 2019 کی کابینہ میٹنگ سے پہلے 06.11.2019 کو معاہدے پر دستخط کرنے سے اس کی بد نیتی ظاہر ہوتی ہے۔

نومبر 2019 کے آخری ہفتے  یعنی کابینہ اجلاس سے پہلے برطانیہ  سے پاکستان کو جرائم کی رقم کی منتقلی اس بات کا ثبوت ہے۔

 اس کے علاوہ، سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے بیانات نے اس بات کی تصدیق کی کہ مارچ 2019 میں اس معاملے پر وزیراعظم عمران خان اور شہزاد اکبر کے درمیان ملاقاتیں ہوئی تھیں۔

تحقیقات میں اس کی اہمیت اور بد نیتی کے شواہد واضح ہیں اور وہ اس وقت اشتہاری مجرم کے طور پر مطلوب ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ شہزاد اکبر نے کابینہ سے اہم حقائق چھپائے اور ایسی کارروائیاں کیں جن کے لیے انہیں قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس جان بوجھ کر کی گئی بدانتظامی نے ایک غیر قانونی منتقلی اسکیم کو عملی جامہ پہنانے میں مدد فراہم کی، جس سے پاکستان کے قومی مفاد کو شدید نقصان پہنچا، حکام کا مطالبہ ہے کہ اس سنگین معاملے میں ملوث تمام افراد سے مکمل احتساب کیا جاے ۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *