فاٹا کا انضمام غلط فیصلہ تھا، سیاستدانوں کو تسلیم کرلینا چاہئے، مولانا فضل الرحمن

فاٹا کا انضمام غلط فیصلہ تھا، سیاستدانوں کو تسلیم کرلینا چاہئے، مولانا فضل الرحمن

پشاور ۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت دھاندلی اور جعلی مینڈیٹ کے ذریعے قائم ہوئی ہے، اور صوبہ اس وقت بدامنی، دہشتگردی اور عوامی بےچینی کا شکار ہے۔

مفتی محمود مرکز پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے تین بڑے صوبے ، بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا ، امن و امان کے سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ عوام خود کو غیرمحفوظ محسوس کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حالات اس قدر خراب ہیں کہ عام آدمی کے لیے گھر سے باہر نکلنا مشکل ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ کسی مسلح جدوجہد یا جتھوں کی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتے۔ باجوڑ میں ایک عالم دین کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے مرحوم کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

انہوں نے فاٹا انضمام پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا جو تمام سیاسی جماعتوں نے بغیر بحث کے قبول کر لیا، جبکہ آئینی ترمیم بھی بغیر کسی غور و خوض کے کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سربراہ جمیعتِ علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان کا ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان

مولانا نے کہا کہ ایک اعلیٰ افسر کے مطابق فاٹا میں زمینوں کی تقسیم سیٹلائٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے اور لینڈ ریکارڈ بنایا جا رہا ہے، جو مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2010 میں جب خیبرپختونخوا میں جے یو آئی کی حکومت تھی تو امن و امان کی صورتحال تسلی بخش تھی، اور 2006 تک صوبے میں مکمل امن تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اُس وقت کسی جگہ کوئی چیک پوسٹ بھی نہیں تھی۔

انہوں نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے رابطوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ دونوں جماعتوں سے بات چیت ابتدائی مراحل میں ہے۔ سینیٹ الیکشن میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمٰن جس کرپشن کی بات کر رہے یہ اس وقت حکومت کا حصہ تھے : مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا

پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ جے یو آئی خیبرپختونخوا سے متعلق کوئی بھی فیصلہ مشاورت سے کرے گی اور جلد آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *