ویب ڈیسک۔ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے مغربی بنگال کے عوام کو وادی کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت پر مغربی بنگال اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف اور بی جے پی رہنما سوویندو ادھیکاری نے اشتعال انگیز اور متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے’’ کہ کوئی بھی بنگالی کشمیر کا دورہ نہ کرے۔ میں یہ پارٹی وابستگی سے ہٹ کر کہہ رہا ہوں: ان جگہوں پر نہ جائیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہوں۔ اگر جموں و کشمیر جانا ہے تو جموں جائیں۔ میں بنگال کے عوام کو خبردار کر رہا ہوں کہ وہ مسلمان اکثریتی علاقوں کا سفر نہ کریں۔‘‘
ادھیکاری کے اس بیان نے شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ آزاد ریسرچ کے مطابق، یہ بیان بھارت میں بی جے پی کی سرپرستی میں پنپنے والی گہری اور خطرناک اسلاموفوبیا کا کھلا مظہر ہے۔ آزاد ریسرچ کے مطابق یہ صرف ایک سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کو کمتر شہری بنا کر قومی شناخت سے مٹانا ہے۔
آزاد ریسرچ کے مطابق ایک سینئر سیاستدان کا یہ کہنا کہ مسلمان صرف ان کے مذہب کی بنیاد پر اس قابل نہیں کہ ان کے علاقوں کا دورہ کیا جائے، اس ذہنی زہر کی عکاسی کرتا ہے جو بی جے پی کے دورِ حکومت میں پھیل چکا ہے۔ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی اس پالیسی نے بھارت کے اندر مذہبی ہم آہنگی کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
آزاد ریسرچ نے اس موقع پر خاص طور پر جموں و کشمیر میں ان کشمیری قوم پرست حلقوں، خصوصاً حکمران عبداللہ خاندان کو نشانے پر لیا ہے، جنہوں نے 1947 سے اب تک نئی دہلی کی حمایت اور وفاداری کا مظاہرہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہائیوں پر محیط یہ وفاداری انہیں عزت نہیں بلکہ تذلیل ہی دلا سکی ہے۔
آزاد ریسرچ کے مطابق ، سوویندو ادھیکاری کا بیان صرف کشمیری مسلمانوں کی توہین نہیں بلکہ ایک سخت حقیقت کا سامنا بھی ہے: مودی کے بھارت میں مسلمان، چاہے وہ کہیں بھی رہتے ہوں، انہیں کمتر سمجھا جاتا ہے۔ نہ انہیں عزت دی جاتی ہے، نہ تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی اس شدت پسند ہندو قوم پرست منصوبے میں ان کی شناخت کے لیے کوئی گنجائش ہے۔
رپورٹ کا اختتام اس انتباہ کے ساتھ ہوتا ہے کہ جو افراد اب بھی بھارت کے اندر پرامن بقائے باہمی کی امید لگائے بیٹھے ہیں، انہیں اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ موجودہ ہندوستان میں مسلم شناخت کے لیے کوئی محفوظ جگہ باقی نہیں بچی ہے۔