میٹا کا فیس بک پر نقل شدہ مواد پبلش کرنے والے صارفین کے خلاف بڑا اعلان

میٹا کا فیس بک پر نقل شدہ مواد پبلش کرنے والے صارفین کے خلاف بڑا اعلان

یوٹیوب کے بعد اب میٹا نے بھی کاپی شدہ مواد پبلش کرنے والے اپنے فیس بک صارفین کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد فیس بک پر دوسروں کے مواد کی نقل پر مبنی مواد کی روک تھام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا کی جانب سے فیس بک پر ’فرینڈز ٹیب‘ کا فیچر پیش

میٹا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ اس سال اب تک کمپنی نے ایسے 1 کروڑ اکاؤنٹس حذف کیے ہیں جو مشہور کریئیٹرز کی نقالی کر رہے تھے، جبکہ مزید 5 لاکھ اکاؤنٹس کو اسپام جیسا رویہ اختیار کرنے یا جعلی انگیجمنٹ پیدا کرنے پر سزائیں دی گئی ہیں۔

بیان کے مطابق ’ ایسے اکاؤنٹس کی رسائی کم کر دی جائے گی اور انہیں فیس بک کے مونیٹائزیشن پروگرامز سے خارج کر دیا جائے گا۔ بار بار خلاف ورزی کرنے والے صارفین کے کنٹنٹ کی تقسیم کی سہولت مکمل طور پر ختم کی جا سکتی ہے‘۔

صرف سرگرمی نہیں، اصل مواد پر زور

میٹا نے واضح کیا ہے کہ یہ نئی پالیسی ان صارفین کے خلاف نہیں ہے جو ری ایکٹ ویڈیوز، تبصروں یا آن لائن رجحانات میں حصہ لے کر تخلیقی انداز میں مواد بناتے ہیں، بلکہ ان اکاؤنٹس کے خلاف ہے جو دوسروں کی ویڈیوز، تصاویر یا تحریری مواد کو بغیر کسی تبدیلی یا اجازت کے دوبارہ شائع کرتے ہیں۔

نئی تبدیلیوں کے تحت فیس بک صارفین کی فیڈ میں دہرائے گئے (ڈپلیکیٹ) ویڈیوز کو کم دکھانا شروع کرے گا۔ اس کے ساتھ ایک نیا فیچر بھی آزمایا جا رہا ہے جس کے ذریعے نقل شدہ پوسٹس پر اصل مواد کی جانب سے لنک دیا جائے گا تاکہ اصل تخلیق کار کو کریڈٹ اور رسائی حاصل ہو۔

’اے آئی ‘ مواد اور کراس پوسٹنگ پر بھی کڑی نظر

اگرچہ میٹا نے براہِ راست ’اے آئی ‘ سے تیار شدہ مواد کا ذکر نہیں کیا، مگر اس نے کریئیٹرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ مختلف کلپس کو جوڑنے یا دوسروں کے مواد پر صرف واٹرمارک لگا کر پوسٹ کرنے سے گریز کریں۔

نئی گائیڈلائنز میں ’مستند کہانی سنانے‘  اور اعلیٰ معیار کے کیپشنز پر زور دیا گیا ہے، جو شاید ان ویڈیوز پر تنقید ہے جن میں ’اے آئی‘ سے بنائے گئے سب ٹائٹلز یا آوازیں بغیر کسی تدوین کے شامل کی جاتی ہیں۔

مزید برآں میٹا نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ دوسرے پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک یا یوٹیوب سے مواد کو بغیر کسی ترمیم یا تخلیقی تبدیلی کے فیس بک پر دوبارہ پوسٹ کرنا ممنوع ہے۔

کنٹنٹ کریئیٹرز کو پالیسی کے نفاذ پر تشویش

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب انسٹاگرام سمیت میٹا کے پلیٹ فارمز پر مواد کی نگرانی کے نظام کے نفاذ پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ خودکار نظام کی غلطیوں کی وجہ سے ان کے اکاؤنٹس بلاوجہ بند کیے جا رہے ہیں اور انسانی معاونت نہ ہونے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ تقریباً 30 ہزار دستخطوں کے ساتھ ایک آن لائن پٹیشن میٹا کی پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:فیس بک کی نئی پالیسی اور پاکستان میں مونیٹائزیشن کو دوبارہ حاصل کرنے کا طریقہ

اگرچہ میٹا نے براہِ راست ان خدشات کا جواب نہیں دیا، تاہم اس نے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے صارفین پروفیشنل ڈیش بورڈ میں اپنی پوسٹس کی کارکردگی اور ممکنہ سزاؤں کی اطلاع دیکھ سکیں گے۔

جعلی اکاؤنٹس اور غلط معلومات کے خلاف اقدامات

اپنے تازہ ترین اعداد و شمار میں میٹا نے انکشاف کیا ہے کہ فیس بک کے کل ماہانہ صارفین کا 3 فیصد جعلی اکاؤنٹس پر مشتمل ہے۔ صرف جنوری سے مارچ 2025 کے دوران، کمپنی نے 1 ارب جعلی اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی ہے۔

اس کے علاوہ، میٹا نے اندرونی فیکٹ چیکنگ سے ہٹ کر امریکا میں ایک نیا ’کمیونٹی نوٹس‘ پروگرام شروع کیا ہے، جو ایکس کی طرز پر ہے۔ اس میں صارفین کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ پوسٹس کی صداقت کی جانچ کریں اور یہ طے کریں کہ وہ میٹا کے اصولوں پر پوری اترتی ہیں یا نہیں۔

نئی پالیسیوں کا نفاذ

میٹا کا کہنا ہے کہ نئی پالیسیوں کا نفاذ بتدریج کیا جائے گا تاکہ تخلیق کاروں کو اپنے مواد میں تبدیلی کرنے کا وقت مل سکے۔ یہ واضح ہے کہ اب بغیر محنت اور نقل پر مبنی مواد کو فیس بک پر پذیرائی نہیں ملے گی۔

یہ قدم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر معیاری، تخلیقی اور اصلی مواد کے فروغ کے لیے وسیع تر انڈسٹری مہم کا حصہ ہے، جو تخلیق کاروں کو ان کا جائز حق دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *