خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابی عمل اس وقت سامنے آیا جب اتوار کو 25 اپوزیشن ارکان نے گورنر ہاؤس میں حلف اٹھایا، جس سے کئی ہفتوں سے جاری سیاسی تعطل ختم ہوا۔
کے پی میں پولنگ صبح 11 بجے صوبائی اسمبلی کے جرگہ ہال میں شروع ہوئی، جسے باقاعدہ پولنگ اسٹیشن قرار دیا گیا ہے۔ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی ہدایت پر فیڈرل کانسٹیبلری تعینات کی گئی ہے۔
انتخابات 11 سینیٹ نشستوں کے لیے ہو رہے ہیں، 7 جنرل، 2 خواتین اور 2 ٹیکنوکریٹس کی نشستوں کے لیے، کل 16 امیدوار میدان میں ہیں۔ ہر رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) 3 ووٹ کاسٹ کرے گا، جن کے لیے مختلف بیلٹ پیپر استعمال ہوں گے۔
جنرل نشست کے لیے سفید، ٹیکنوکریٹ کے لیے سبز اور خواتین کی نشست کے لیے گلابی رنگ کا بیلٹ پیپر جاری کیا گیا ہے، کامیابی کے لیے جنرل نشست پر 19 جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں کے لیے 49 ووٹ درکار ہوں گے۔
حکومت اور اپوزیشن نے غیر معمولی اتفاقِ رائے سے 11 امیدواروں کو مشترکہ طور پر میدان میں اتارا ہے جن میں 6 حکومتی حمایت یافتہ اور 5 اپوزیشن کے حمایت یافتہ ہیں۔ ادھر 4 امیدوار نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا جبکہ وقاص، عرفان سلیم، عائشہ بانو اورکزئی اور ارشاد حسین نے انتخابی دوڑ سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔
اتوار کو گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والی حلف برداری تقریب نے کے پی میں طویل عرصے سے التوا کا شکار سینیٹ انتخابات کی راہ ہموار کی۔ خواتین اور اقلیتی نشستوں پر منتخب ہونے والے 25 اپوزیشن ارکان نے گورنر فیصل کریم کنڈی سے حلف لیا، کیونکہ اسمبلی اجلاس کو پہلے ہی کورم کی کمی کے باعث ملتوی کر دیا گیا تھا۔
اس سے قبل کے پی اسمبلی کے اسپیکر بابرسلیم سواتی نے کورم پورا نہ ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے حلف لینے سے انکار کیا اور اسمبلی اجلاس کو 24 جولائی تک ملتوی کر دیا۔
پی ٹی آئی کے رکن شیر علی آفریدی کی نشاندہی پر کورم کی کمی کا اعلان کیا گیا، جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی ہدایت پر گورنر کو حلف لینے کی اجازت دی گئی۔
دوسری جانب لاہور میں بھی پنجاب اسمبلی میں ایک خالی سینیٹ نشست پر پولنگ صبح 9 بجے شروع ہوئی، جو سہ پہر 4 بجے تک جاری رہے گی۔ یہ نشست سینیٹر ساجد میر کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ انتخابی عمل کی نگرانی پنجاب کے الیکشن کمشنر شریف اللہ کر رہے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے ایوان کو پولنگ اسٹیشن قرار دیا گیا ہے۔
پنجاب میں سینیٹ کی نشست جیتنے کے لیے امیدوار کو کم از کم 184.5 ووٹ درکار ہیں، جبکہ اسمبلی میں اس وقت 369 اراکین موجود ہیں (دو نشستیں خالی ہیں)۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے حافظ عبد الکریم کو امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے مہر عبد الستار امیدوار ہیں۔ 2 آزاد امیدوار، اعجاز حسین منہاس اور خدیجہ صدیقی بھی میدان میں ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے دونوں صوبوں میں پولنگ کے دوران ضابطہ اخلاق نافذ کر رکھا ہے۔ پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات لے جانے پر پابندی ہے جبکہ بیلٹ پیپر کی تصویر لینا بھی سختی سے ممنوع ہے۔
یہ سینیٹ انتخابات ایوانِ بالا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے، خاص طور پر کے پی میں طویل تاخیر اور سیاسی کشمکش کے بعد ان کا انعقاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔