وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے ’عالمی یومِ ارض‘ (ارتھ ڈے) کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ کرہ ارض کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی موجودگی اور نشو و نما کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ زمین کے تحفظ کی ذمہ داری کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز
وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ آج ہماری زمین کو موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے موسمی تغیرات اور معیارِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں نمایاں ہے، جو اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اپنے قدرتی خدوخال کے تحفظ کے عزم کو مزید پختہ کریں۔
حکومتی اقدامات اور حکمتِ عملی
شہباز شریف نے واضح کیا کہ حکومتِ پاکستان ماحول کے تحفظ اور موسمیاتی شدت سے نمٹنے کے لیے ‘قابلِ تجدید توانائی’ کے فروغ سمیت متعدد اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے عالمی سطح پر موثر بین الاقوامی تعاون اور ماحول دوست اجتماعی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زمین نباتات و حیوانات سمیت ہر طرح کی زندگی کو پروان چڑھاتی ہے، جس کا تحفظ ہمارا اولین فرض ہے۔
یومِ ارض ہر سال 22 اپریل کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کے کٹاؤ اور زمین کو درپیش خطرات کے بارے میں عوامی آگاہی پیدا کرنا ہے۔ پاکستان گزشتہ چند سالوں میں غیر معمولی سیلابوں، ہیٹ ویوز اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا کر چکا ہے۔
اسی تناظر میں وفاقی حکومت نے نیشنل کلائمیٹ چینج پالیسی کے تحت گرین انرجی اور شجرکاری جیسے منصوبوں کو ترجیح دی ہے۔